پیٹرول کے بعد بجلی صارفین پر بوجھ بڑھنے کا خدشہ، فی یونٹ 1 روپے 78 پیسے اضافے کی درخواست

نیپرا اتھارٹی اس درخواست پر 26 فروری کو سماعت کرے گی

لاہور(خصوصی رپورٹ-غلام مرتضی )پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد بجلی کے نرخوں میں بھی اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مرکزی پاور پرچیزنگ ایجنسی سی پی پی اے نے جنوری کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں قیمت بڑھانے کی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں جمع کرا دی ہے۔

نیپرا اتھارٹی اس درخواست پر 26 فروری کو سماعت کرے گی، جس کے بعد حتمی فیصلہ سامنے آئے گا۔

درخواست میں بتایا گیا ہے کہ فروری کے دوران 9 ارب 14 کروڑ یونٹس بجلی پیدا کی گئی، جبکہ تقسیم کار کمپنیوں کو 8 ارب 76 کروڑ 20 لاکھ یونٹس فراہم کی گئی۔ دستاویزات کے مطابق جنوری میں بجلی کی اوسط فی یونٹ لاگت 12 روپے 17 پیسے رہی، جبکہ اسی ماہ کے لیے ریفرنس لاگت 10 روپے 39 پیسے فی یونٹ مقرر تھی۔

سی پی پی اے نے ایک ماہ کے لیے بجلی کی قیمت میں 1 روپے 78 پیسے فی یونٹ اضافے کی استدعا کی ہے۔ اگر یہ درخواست منظور ہو جاتی ہے تو صارفین کو آئندہ بلوں میں اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔

توانائی ماہرین کی رائے

ماہرین کے مطابق،فیول ایڈجسٹمنٹ کا نظام عالمی ایندھن قیمتوں سے جڑا ہوتا ہے۔بجلی پیداوار میں مہنگے ذرائع کا تناسب بڑھنے سے اوسط لاگت متاثر ہوتی ہے۔قلیل مدتی اضافے صارفین کے ماہانہ بجٹ پر فوری اثر ڈالتے ہیں۔توانائی شعبے میں دیرپا استحکام کے لیے متبادل اور سستے ذرائع کی طرف منتقلی ضروری ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کے بعد بجلی کی ممکنہ قیمت میں اضافہ مہنگائی کے دباؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ ان کے بقول 1 روپے 78 پیسے فی یونٹ بظاہر معمولی اضافہ محسوس ہوتا ہے، لیکن مجموعی کھپت کے تناظر میں یہ صارفین کے بلوں پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

غلام مرتضیٰ کہتے ہیں کہ فیول ایڈجسٹمنٹ کا طریقہ کار شفاف ضرور ہے، مگر عام صارف کے لیے اس کی پیچیدگیاں سمجھنا آسان نہیں۔ ان کے مطابق توانائی پالیسی میں طویل المدتی اصلاحات، مقامی وسائل کے بہتر استعمال اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنا ہی قیمتوں کے استحکام کی کنجی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین