سولجر بازار میں ہولناک گیس دھماکا، رہائشی عمارت منہدم، 14 افراد جاں بحق، مزید افراد ملبے تلے ہونے کی اطلاعات

دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اطراف کی عمارتیں بھی لرز اٹھیں،عینی شاہدین

کراچی(خصوصی رپورٹ -غلام مرتضی)کراچی کے علاقے سولجر بازار کی گل رعنا کالونی میں گیس لیکیج کے باعث ہونے والے دھماکے نے ایک رہائشی عمارت کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا، جس کے نتیجے میں بچی سمیت 14 افراد جاں بحق جبکہ 14 افراد زخمی ہو گئے۔ متعدد افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں۔

حادثہ گلی نمبر 05 کے قریب آغا خان اسکول کے اطراف پیش آیا۔ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ادارے فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور ریسکیو کارروائیاں شروع کر دیں۔ ایدھی فاؤنڈیشن اور چھیپا کی ایمبولینسز نے لاشوں اور زخمیوں کو سول اسپتال منتقل کیا جہاں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اطراف کی عمارتیں بھی لرز اٹھیں اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پولیس حکام کے مطابق واقعہ صبح تقریباً 4 بجکر 15 منٹ پر پیش آیا۔ اے ایس پی جمشید عاشر نے بتایا کہ عمارت گراؤنڈ پلس دو منزلہ تھی اور اس کی قانونی حیثیت کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔

چیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹر عابد کے مطابق دھماکا پہلی منزل پر ہوا اور ابتدائی طور پر گیس لیکیج کو سبب قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عمارت میں چھوٹے چھوٹے کمروں کی تعمیر کی گئی تھی اور جگہ کم ہونے کے باعث ریسکیو آپریشن میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ دھماکے سے ملحقہ عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں طلحہ، 60 سالہ ریاض، 10 سالہ سجاد، 44 سالہ زینب اور 17 سالہ افشاں شامل ہیں۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملبے کے نیچے مزید ایک سے دو افراد موجود ہو سکتے ہیں، جس کے باعث امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جائے وقوعہ سے دور رہیں تاکہ ریسکیو آپریشن میں خلل نہ پڑے۔ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں تاکہ دھماکے کی اصل وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔

شہری تحفظ کے ماہرین کی رائے

ماہرین کے مطابق غیر قانونی اور کمزور تعمیرات حادثات کے خطرات میں اضافہ کرتی ہیں۔گیس لیکیج کی بروقت نشاندہی کیلئے حفاظتی نظام اور باقاعدہ چیکنگ ضروری ہے۔گنجان آباد علاقوں میں ایمرجنسی رسپانس کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔آگاہی مہم کے ذریعے شہریوں کو گیس سیفٹی اصولوں سے روشناس کرایا جانا چاہیے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق کراچی میں ایسے سانحات اکثر غیر قانونی تعمیرات اور حفاظتی معیارات کی عدم پابندی کے باعث پیش آتے ہیں۔ ان کے بقول سولجر بازار کا واقعہ شہری انتظامیہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، کیونکہ گنجان آبادیوں میں بغیر منظوری تعمیر ہونے والی عمارتیں مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔

غلام مرتضیٰ کہتے ہیں کہ اگر گیس لیکیج کی بروقت نشاندہی اور ریگولیٹری نگرانی مؤثر ہوتی تو قیمتی جانوں کو بچایا جا سکتا تھا۔ ان کے مطابق اس سانحے کے بعد ضروری ہے کہ نہ صرف تحقیقات ہوں بلکہ شہر بھر میں حفاظتی آڈٹ بھی کرایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین