لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)صوبائی محکمۂ اطلاعات میں پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم کے میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے افسران کی مثالیں کم دیکھنے کو ملتی ہیں، لیکن انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر عادل نواز خان نے اس روایت کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشنز (ڈی جی پی آر) میں الیکٹرانک میڈیا سیکشن کی نگرانی کرنے والے عادل نواز خان نے ملازمت کی مصروفیات کے باوجود تعلیم کا دامن نہیں چھوڑا اور پنجاب یونیورسٹی سے انٹرنیشنل ریلیشنز میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر کے ایک روشن مثال قائم کی ہے۔

عادل نواز خان کی یہ کامیابی محض ایک ڈگری حاصل کرنے تک محدود نہیں بلکہ یہ اس سوچ کی عکاس ہے کہ تعلیم ایک مسلسل عمل ہے۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ سرکاری ملازمت ملنے کے بعد بہت سے افراد اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو خیرباد کہہ دیتے ہیں۔ روزمرہ دفتری امور، سماجی مصروفیات اور پیشہ ورانہ ذمہ داریاں اکثر علم کے سفر میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ لیکن عادل نواز خان نے ثابت کیا کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو وقت کی کمی اور ذمہ داریوں کا بوجھ بھی راستہ نہیں روک سکتا۔انہوں نے نہ صرف پی ایچ ڈی مکمل کی بلکہ دورانِ تحقیق امریکہ میں ایک اہم فیلوشپ بھی حاصل کی، جہاں انہیں بین الاقوامی ماحول میں تحقیق اور علمی تبادلۂ خیال کا موقع ملا۔ اس فیلوشپ نے ان کی فکری وسعت میں اضافہ کیا اور عالمی سطح پر ابلاغ اور سفارتی امور کی نئی جہتوں سے روشناس ہونے کا موقع فراہم کیا۔

یہ تجربہ یقیناً ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں بھی مثبت اضافہ کا باعث بنا ہوگا۔ڈی جی پی آر میں الیکٹرانک میڈیا سیکشن کی ذمہ داری سنبھالنا ایک نہایت اہم اور حساس کام ہے۔ موجودہ دور میں میڈیا ریاستی بیانیے کی تشکیل، عوامی آگاہی اور حکومتی پالیسیوں کی موثر ترسیل میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ ایسے میں ایک ایسے افسر کی موجودگی جو بین الاقوامی تعلقات جیسے اہم مضمون میں اعلیٰ ترین ڈگری رکھتا ہو، ادارے کے لیے بھی ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ ان کی علمی بصیرت نہ صرف پالیسی کی بہتر تفہیم میں مددگار ثابت ہوتی ہے بلکہ میڈیا حکمتِ عملی کو بھی زیادہ مربوط اور مؤثر بناتی ہے۔عادل نواز خان کی کامیابی اس امر کی یاد دہانی ہے کہ تعلیم محض ڈگری لینے کا نام نہیں بلکہ یہ شخصیت سازی، فکری پختگی اور پیشہ ورانہ مہارت کو جِلا بخشنے کا ذریعہ ہے۔
اسے بھی پڑھیں: قومیں اساتذہ کے کردار سے بنتی اوربرباد ہوتی ہیں:ڈاکٹر حسین قادری
جب ایک سرکاری افسر اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ تحقیق اور مطالعے کو جاری رکھتا ہے تو وہ دراصل ادارے کے معیار کو بھی بلند کرتا ہے۔ ایسے افراد معاشرے میں نوجوان نسل کے لیے تحریک کا باعث بنتے ہیں اور یہ پیغام دیتے ہیں کہ سیکھنے کا عمل عمر یا عہدے کا محتاج نہیں۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں علمی و تحقیقی سرگرمیوں کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے، وہاں ایسے افسران کی مثالیں امید کی کرن ہیں۔ یہ اس سوچ کو تقویت دیتی ہیں کہ سرکاری ملازمت منزل نہیں بلکہ سفر کا ایک مرحلہ ہے، اور اصل کامیابی مسلسل بہتری اور علم کے حصول میں پوشیدہ ہے۔عادل نواز خان کی تعلیمی کامیابی اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ اگر انسان علم کو اپنا شوق نہیں بلکہ عشق بنا لے تو ہر رکاوٹ عبور کی جا سکتی ہے۔ ان کی یہ کاوش نہ صرف انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ بلکہ پورے سرکاری ڈھانچے کے لیے ایک مثبت پیغام ہے کہ ترقی کا راستہ کتاب، تحقیق اور مسلسل سیکھنے سے ہو کر گزرتا ہے۔ ایسے افسران ہی دراصل قوموں کی فکری بنیادوں کو مضبوط بناتے ہیں اور اداروں کو نئی بلندیوں تک لے جاتے ہیں۔





















