چین میں ایک معروف خاتون سوشل میڈیا انفلوئنسر کو لائیو سیشن کے دوران پیش آنے والی تکنیکی لغزش مہنگی پڑ گئی، جب چند لمحوں کے لیے ان کے چہرے پر استعمال ہونے والا بیوٹی فلٹر ہٹ گیا اور ویڈیو وائرل ہو گئی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق انفلوئنسر اپنے مداحوں کے ساتھ براہِ راست گفتگو کر رہی تھیں کہ اچانک فلٹر غیر فعال ہو گیا، جس کے باعث ان کی اصل شکل واضح طور پر اسکرین پر نظر آنے لگی۔ یہ لمحہ صرف چند سیکنڈز پر مشتمل تھا، تاہم سوشل میڈیا صارفین نے فوراً اسے محفوظ کر کے مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کرنا شروع کر دیا۔
بتایا جا رہا ہے کہ محض چار سیکنڈ کے اس کلپ نے چند گھنٹوں میں غیر معمولی توجہ حاصل کر لی اور دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد تقریباً ڈیڑھ لاکھ یعنی 1.5 لاکھ فالوورز نے انفلوئنسر کو ان فالو کر دیا، جس سے ان کی آن لائن مقبولیت کو نمایاں دھچکا پہنچا۔
چین میں لائیو اسٹریمنگ ایک بڑی صنعت کی صورت اختیار کر چکی ہے، جہاں انفلوئنسرز براہِ راست ناظرین سے بات چیت کرتے اور مختلف مصنوعات کی تشہیر بھی کرتے ہیں۔ بیوٹی فلٹرز کا استعمال وہاں کے ڈیجیٹل کلچر کا عام حصہ سمجھا جاتا ہے اور اکثر کریئیٹرز اپنی ویڈیوز میں چہرے کو نکھارنے کے لیے ان ٹولز سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بحث کو جنم دے رہا ہے کہ سوشل میڈیا پر پیش کی جانے والی شخصیت اور حقیقی زندگی کے درمیان فرق کس حد تک درست یا قابلِ قبول ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں ظاہری تاثر کی اہمیت بڑھ چکی ہے، مگر ایسے واقعات صارفین کے اعتماد پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا ماہرین کی رائے
ڈیجیٹل میڈیا کے ماہرین کے مطابق،فلٹرز کا استعمال عام ہے مگر مکمل انحصار طویل مدتی اعتبار کو متاثر کر سکتا ہے۔سوشل میڈیا پر شفافیت اور حقیقت پسندی ناظرین کے اعتماد کو مضبوط بناتی ہے۔وائرل کلپس چند سیکنڈز میں برسوں کی محنت کو متاثر کر سکتے ہیں۔کریئیٹرز کو تکنیکی احتیاط اور برانڈ امیج دونوں پر توجہ دینا ضروری ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق یہ واقعہ ڈیجیٹل دور کی نفسیات کو ظاہر کرتا ہے جہاں آن لائن شناخت اکثر حقیقی شخصیت سے مختلف پیش کی جاتی ہے۔ ان کے بقول سوشل میڈیا نے شہرت حاصل کرنا آسان بنایا ہے، لیکن اسے برقرار رکھنا کہیں زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔
غلام مرتضیٰ کہتے ہیں کہ چند سیکنڈ کی ویڈیو کا ڈیڑھ لاکھ فالوورز پر اثر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ناظرین اب زیادہ حساس اور تنقیدی ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق یہ واقعہ انفلوئنسر کلچر کے لیے ایک سبق ہے کہ مصنوعی خوبصورتی سے زیادہ پائیدار چیز اصل پن اور اعتماد ہے۔





















