200ملین ڈالر والی فلم اے آئی نے 24 گھنٹے میں تیار کر دی،فلمی دنیا ہل گئی

فلم ساز، وی ایف ایکس آرٹسٹ اور ڈیجیٹل کریئیٹرز سبھی حیران ہیں کہ آخر مصنوعی ذہانت اس حد تک کیسے پہنچ گئی

لاہور(خصوصی رپورٹ: رمیض حسین)سوشل میڈیا کی دنیا میں ان دنوں ایک حیران کن اے آئی جنریٹڈ فلمی کلپ نے تہلکہ مچا رکھا ہے۔ چند ہی لمحوں میں لاکھوں آنکھوں کا مرکز بن جانے والی اس ویڈیو کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ صرف 24 گھنٹوں میں تیار کی گئی اور وہ بھی ایسے معیار کے ساتھ جو بظاہر 200 ملین ڈالر (تقریباً 60 ارب پاکستانی روپے) کی ہائی بجٹ ہالی ووڈ فلموں کا ہم پلہ دکھائی دیتا ہے۔

یہ خبر سامنے آتے ہی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں ایک نئی بحث چھڑ گئی۔ فلم ساز، وی ایف ایکس آرٹسٹ اور ڈیجیٹل کریئیٹرز سبھی حیران ہیں کہ آخر مصنوعی ذہانت اس حد تک کیسے پہنچ گئی؟ جرمنی کے تخلیقی ادارے The Dor Brothers نے تقریباً تین منٹ پر مشتمل ایک سائنس فکشن مختصر فلم جاری کی، جس میں عظیم الشان شہروں کی تباہی، فلک شگاف دھماکے، اور دل دہلا دینے والے سینماٹک شاٹس دکھائے گئے ہیں۔ ہر فریم ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی بڑے اسٹوڈیو کی مہینوں پر محیط محنت کا نتیجہ ہو۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسٹوڈیو کے مطابق اس پورے پروجیکٹ میں نہ کوئی روایتی کیمرہ استعمال ہوا، نہ اداکاروں کی شوٹنگ کی گئی، نہ ہی مہنگے سیٹس بنائے گئے اور نہ ہی روایتی وی ایف ایکس پراسیسنگ کا سہارا لیا گیا۔ سب کچھ مکمل طور پر اے آئی سسٹمز کے ذریعے تخلیق کیا گیا  وہ بھی محض ایک دن میں۔

اگرچہ 200 ملین ڈالر کا ہندسہ اصل بجٹ نہیں بلکہ اس فلمی معیار اور پروڈکشن ویلیو کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا، مگر اس دعوے نے یہ ضرور ثابت کر دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب محض تجرباتی ٹیکنالوجی نہیں رہی۔ آج کے جنریٹو اے آئی سسٹمز نہ صرف پیچیدہ سینماٹک مناظر تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ وہ روایتی فلم سازی کے پورے تصور کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں آ چکے ہیں۔


ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا پر آرا کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ بے شمار ناظرین نے اس کے فوٹو ریئلسٹک مناظر، روشنی کے استعمال اور اینی میٹڈ موشن کی تعریف کی، جبکہ کچھ ناقدین نے نہایت باریک بینی سے فزکس کی منطقی لغزشوں، کرداروں کی جذباتی گہرائی کے فقدان اور کہانی کے سطحی پن کی نشاندہی کی۔ ان کے مطابق یہ تخلیق ایک مکمل فلم سے زیادہ ایک طاقتور اے آئی ٹیکنیکل ڈیمو محسوس ہوتی ہے—ایسا مظاہرہ جو ٹیکنالوجی کی رفتار تو دکھاتا ہے مگر انسانی احساس کی پرتیں ابھی پوری طرح منتقل نہیں کر پاتا۔

یہ تجربہ محض ایک وائرل کلپ نہیں، بلکہ فلم اور ویژوئل ایفیکٹس انڈسٹری کے مستقبل پر اٹھنے والا سنجیدہ سوال ہے۔ کیا آنے والے برسوں میں بڑے ایکشن سیکوینسز، تباہ کن مناظر اور پیچیدہ سینماٹک شاٹس تخلیق کرنے کے لیے وسیع عملہ اور مہنگے سیٹس لازمی رہیں گے؟ یا پھر اے آئی ایسے مراحل کو مختصر اور کم لاگت بنا دے گا؟ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بصری معیار اور بڑے پیمانے کے مناظر تو مصنوعی ذہانت بآسانی سنبھال سکتی ہے، مگر کرداروں کی نفسیاتی پیچیدگی، مکالمے کی تہہ داری اور کہانی کی روح اب بھی انسانی تخلیق کا محتاج پہلو ہیں۔

اس وائرل کلپ نے کم از کم ایک بات واضح کر دی ہے: اے آئی اب صرف مختصر ویڈیوز یا محدود وی ایف ایکس تجربات تک محدود نہیں رہا۔ اگر رفتار یہی رہی تو بعید نہیں کہ مستقبل کی فیچر فلموں میں بھی مصنوعی ذہانت ایک مرکزی کردار ادا کرے—چاہے وہ تصور کی تشکیل ہو، مناظر کی تخلیق ہو یا مکمل پروڈکشن کا ڈھانچہ۔ یوں فلمی صنعت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی نظر آتی ہے جہاں تخیل، روایت اور ٹیکنالوجی ایک نئے امتزاج کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس اے آئی تیار کردہ ویڈیو نے فلمی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ عام طور پر جب ہم بڑے بجٹ کی فلموں کے بارے میں سنتے ہیں تو ذہن میں ہالی ووڈ کے وسیع سیٹس، مہنگے کیمرے، سینکڑوں ٹیکنیشنز اور مہینوں بلکہ برسوں کی محنت کا تصور آتا ہے۔ لیکن جرمن اسٹوڈیو The Dor Brothers کی جانب سے پیش کی گئی اس مختصر فلم نے یہ سوچ بدلنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے مطابق یہ ویڈیو صرف 24 گھنٹوں میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کی گئی، اور اس میں روایتی فلم سازی کا کوئی بڑا عمل شامل نہیں تھا۔

اس پروجیکٹ میں اسٹوڈیو نے اپنے پلیٹ فارم DorLabs کے ٹولز استعمال کیے۔ ان ٹولز کی مدد سے کہانی کا ابتدائی تصور، بڑے شہروں کے تباہ کن مناظر، دھماکوں کے سین اور سینماٹک کیمرہ موومنٹ تک سب کچھ تیار کیا گیا۔ عام حالات میں اس نوعیت کے مناظر بنانے کے لیے ویژوئل ایفیکٹس کے ماہرین کی بڑی ٹیم، طاقتور کمپیوٹر سسٹمز اور طویل وقت درکار ہوتا ہے۔ یہاں یہ سب مراحل بہت کم وقت میں مکمل ہو گئے۔

یہی وجہ ہے کہ ویڈیو کو دیکھ کر بہت سے لوگ حیران رہ گئے۔ انہیں لگا جیسے یہ کسی بڑی فلم کا ٹریلر ہو۔ روشنی، سائے، عمارتوں کی تباہی اور کیمرے کی حرکت کافی حد تک حقیقت کے قریب دکھائی دیتی ہے۔

ویڈیو وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا پر ملے جلے ردعمل سامنے آئے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ فلمی دنیا کے لیے ایک انقلاب ہے۔ ان کے مطابق اگر اے آئی اس معیار کا مواد ایک دن میں بنا سکتا ہے تو مستقبل میں فلم سازی بہت آسان اور کم خرچ ہو سکتی ہے۔

لیکن کچھ ناقدین نے اس میں خامیاں بھی نکالیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض مناظر میں فزکس کے اصول پوری طرح درست نہیں لگتے، کرداروں میں جذباتی گہرائی کم ہے اور کہانی مکمل فلم جیسی مضبوط نہیں۔ یعنی بصری طور پر ویڈیو متاثر کن ہے، مگر انسانی احساسات اور مضبوط اسکرپٹ ابھی بھی روایتی فلم سازی کی ضرورت محسوس کراتے ہیں۔

یہ تجربہ ایک اہم سوال اٹھاتا ہے: کیا مستقبل میں فلمیں بنانے کے طریقے بدل جائیں گے؟

اگر اے آئی بڑے مناظر، تباہی کے سین اور پیچیدہ ویژوئل ایفیکٹس تیزی سے تیار کر سکتا ہے تو پروڈکشن کا وقت اور خرچ دونوں کم ہو سکتے ہیں۔ اس کا فائدہ چھوٹے فلم سازوں اور آزاد تخلیق کاروں کو بھی ہو سکتا ہے، جو محدود وسائل کے باوجود بڑے خواب دیکھتے ہیں۔

دوسری طرف، ویژوئل ایفیکٹس آرٹسٹس اور دیگر تکنیکی ماہرین کے لیے یہ تبدیلی چیلنج بھی بن سکتی ہے۔ اگر مشینیں زیادہ کام خود کرنے لگیں تو انسانی کردار کیا رہ جائے گا؟ ماہرین کا خیال ہے کہ مکمل طور پر انسان کو بدل دینا آسان نہیں، کیونکہ کہانی کی روح، مکالمے کی گہرائی اور جذباتی اثر ابھی بھی انسانی تخلیق کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

فی الحال یہ ویڈیو ایک طاقتور مظاہرہ ضرور ہے، لیکن مکمل لمبی فیچر فلم بنانا ابھی بھی ایک بڑا مرحلہ ہے۔ فلم صرف خوبصورت مناظر کا نام نہیں؛ اس میں مضبوط کہانی، کرداروں کی نشوونما، جذباتی اتار چڑھاؤ اور ناظرین سے تعلق بھی شامل ہوتا ہے۔ اے آئی اس سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، مگر مکمل اعتماد کے ساتھ انسانی تخلیق کی جگہ لینا ابھی باقی ہے۔

اس وائرل کلپ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف ایک معاون ٹیکنالوجی نہیں رہی بلکہ تخلیقی دنیا میں ایک طاقتور کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ تبدیلی خوف کا باعث بھی بن سکتی ہے اور نئے مواقع کا دروازہ بھی کھول سکتی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ اے آئی آئے گا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ انسان اور اے آئی مل کر مستقبل کی فلمی دنیا کو کس شکل میں ڈھالتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین