رواں ورلڈکپ میں بابر اعظم کے نیٹ سیشن اور میچ کے دوران بیٹنگ انداز میں واضح فرق دیکھا گیا۔ ایک پریکٹس سیشن میں انہوں نے نسیم شاہ کی شارٹ گیند کو مڈوکٹ کے اوپر سے جارحانہ انداز میں کھیلا، جبکہ سلمان مرزا کی آف اسٹمپ سے باہر شارٹ ڈلیوری پر شاندار اپر کٹ بھی لگایا۔
اسی طرح شاداب خان اور ابرار احمد کی لیگ اسپن کے خلاف وہ اعتماد کے ساتھ قدموں کا استعمال کرتے ہوئے شاٹس کھیلتے دکھائی دیے۔ تاہم ایک موقع پر نسیم شاہ کی لیگ کٹر پر وہ شاٹ غلط ٹائم کر بیٹھے اور خود پر ناراضی کا اظہار کرتے بھی نظر آئے۔
تقریباً 20 سے 25 منٹ کے اس نیٹ سیشن میں بابر اعظم کے کھیل کے دو مختلف پہلو سامنے آئے۔ ایک طرف ان کی بیٹنگ میں جارحانہ ارادے کی جھلک نظر آئی، جبکہ دوسری جانب میچ کے دوران وہی گیندیں زیادہ محتاط انداز میں کھیلی گئیں اور نیٹ جیسی روانی دکھائی نہیں دی۔
یہ بابر اعظم کا چوتھا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ ہے، تاہم اب تک کے اعداد و شمار ان کے حق میں مضبوط دلیل فراہم نہیں کرتے۔ ان کے اسٹرائیک ریٹ پر سوالات اٹھ رہے ہیں، خاص طور پر اس فارمیٹ میں جہاں تیز رفتار رنز اسکور کرنا کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔
کپتان سلمان آغا اور ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے تجربے کی بنیاد پر بابر اعظم پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں ان سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ میدان میں اپنی کارکردگی کے ذریعے ناقدین کو جواب دیں اور ٹیم کو درکار رفتار فراہم کریں۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں اسٹرائیک ریٹ صرف ایک عدد نہیں بلکہ میچ کا رخ بدلنے والا عنصر ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بابر اعظم جیسے تجربہ کار بلے باز کا اسٹرائیک ریٹ 111.81 ہو اور وہ بھی کم از کم 500 رنز بنانے والوں میں سب سے کم ہو تو یہ محض انفرادی مسئلہ نہیں بلکہ ٹیم اسٹریٹجی کا سوال بن جاتا ہے۔
غلام مرتضیٰ کے بقول نیٹ سیشن میں جارحانہ شاٹس کھیلنا اور میچ میں محتاط انداز اپنانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ذہنی دباؤ یا ٹیم پلاننگ میں تضاد موجود ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جدید ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں پاور پلے کا بھرپور استعمال اور مڈل اوورز میں اسٹرائیک روٹیشن بنیادی تقاضے ہیں، اور اگر ٹاپ آرڈر رفتار فراہم نہ کرے تو مڈل آرڈر پر غیر ضروری دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
ان کے مطابق کپتان سلمان آغا اور کوچ مائیک ہیسن کا بابر پر اعتماد اپنی جگہ، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ بابر اعظم اپنی بیٹنگ اپروچ میں واضح تبدیلی لائیں۔ غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ بڑے کھلاڑی وہی ہوتے ہیں جو اعداد و شمار کے دباؤ کو کارکردگی میں بدل دیتے ہیں، ورنہ ٹی ٹوئنٹی جیسے تیز فارمیٹ میں ساکھ برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔





















