واشنگٹن: (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)امریکا میں 10 سائنسدانوں کی پراسرار ہلاکت اور گمشدگی کے واقعات نے سنسنی پھیلا دی ہے، جن میں سے بیشتر کا تعلق جوہری پروگرامز یا حساس سرکاری اداروں سے بتایا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ان واقعات پر امریکی صدر Donald Trump نے بھی نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر ایک اہم اجلاس میں شریک ہوئے ہیں اور توقع ہے کہ ڈیڑھ ہفتے کے اندر اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ سامنے آ جائے گی۔
کیا یہ محض اتفاق ہے؟
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان تمام سائنسدانوں کا حساس اداروں سے تعلق ہونا محض ایک اتفاق بھی ہو سکتا ہے، تاہم معاملے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔
ان واقعات نے سیکیورٹی اور خفیہ نوعیت کے پروگرامز سے جڑے افراد کی حفاظت کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
کن اداروں سے تعلق تھا؟
لاپتہ یا ہلاک ہونے والے افراد میں ایسے سائنسدان شامل ہیں جو مختلف اہم اداروں سے وابستہ تھے، جیسے:
- ناسا کی جیٹ پروپلژن لیبارٹری
- لاس الاموس نیشنل لیبارٹری
- ایم آئی ٹی
- قومی سلامتی سے متعلق ادارے
یہ ادارے امریکا کے حساس سائنسی اور دفاعی پروگرامز میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
پراسرار حالات نے بڑھائے خدشات
ان سائنسدانوں میں سے بعض کو گولی مار کر قتل کیا گیا، کچھ لاپتہ ہوئے جبکہ کچھ کی موت کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہو سکیں۔
کچھ کیسز میں یہ بھی سامنے آیا کہ افراد اچانک گھر سے نکلے اور پھر واپس نہیں آئے، جبکہ بعض کی لاشیں بعد میں مختلف مقامات سے برآمد ہوئیں۔
تحقیقات جاری، سوالات برقرار
حکام کے مطابق ان تمام کیسز کی مختلف زاویوں سے تحقیقات جاری ہیں، تاہم اب تک کسی واضح تعلق یا سازش کے شواہد سامنے نہیں آئے۔
اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں سائنسدانوں کا پراسرار حالات میں متاثر ہونا ایک سنجیدہ معاملہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ واقعات اگرچہ بظاہر الگ الگ نظر آتے ہیں، لیکن ان کا ایک ہی نوعیت کے حساس اداروں سے تعلق ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
یہ ممکن ہے کہ یہ محض اتفاق ہو، جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا، لیکن عالمی سطح پر ایسے واقعات اکثر خفیہ سرگرمیوں، سیکیورٹی ناکامیوں یا کسی بڑی سازش سے بھی جوڑے جاتے ہیں۔
حقیقت جو بھی ہو، اس معاملے کی شفاف اور جامع تحقیقات نہایت ضروری ہیں کیونکہ اس کا تعلق نہ صرف امریکی سیکیورٹی بلکہ عالمی سطح پر سائنسی تحقیق کے تحفظ سے بھی ہے۔





















