جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے مذاکرات کی حمایت کی ہے اور حکومت سے بات چیت شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جے یو آئی کے رہنما سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ اگر ہم اسلام آباد پہنچے تو پھر آپ کی گولیاں ختم ہو جائیں گی، مگر ہم واپس نہیں جائیں گے۔
سینیٹ اجلاس میں مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جے یو آئی ہی 2018 کے انتخابات کے خلاف تحریک چلا رہی تھی اور وہی کام جو پی ٹی آئی سے کروایا گیا تھا، آج کی حکومت سے بھی وہی کروایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی مذاکرات کی بات کر رہی ہے تو پھر اسے طعنے کیوں دیے جا رہے ہیں؟ کوئی بھی سیاسی حکومت اپنے اختیار میں نہیں ہوتی۔
مولانا عبدالواسع نے یہ بھی کہا کہ چھبیسویں ترمیم پاس ہوئی لیکن مدارس کے متعلق ترمیم ابھی تک لٹکی ہوئی ہے۔ انہیں پہلے بھی کہا گیا تھا کہ ان کے ساتھ دھوکا ہو گا، اور اب اگر پارلیمنٹ کے طے شدہ بل پر دھوکہ دیا جا رہا ہے تو پی ٹی آئی آپ پر کیسے اعتماد کرے گی؟
انہوں نے مزید کہا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا حال بھی ویسا ہی ہو گا جیسے پی ٹی آئی کا ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ جیلوں میں بند کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے کاندھوں پر بیٹھ کر آتے ہیں اور آنکھیں بھی ہمیں دکھاتے ہیں۔
آخر میں، مولانا عبدالواسع نے یہ عندیہ دیا کہ اگر مدارس کے خلاف یہ سلسلہ جاری رہا تو جے یو آئی اسلام آباد آئے گی، اور اس بار وہ واپس نہیں جائے گی، چاہے کچھ بھی ہو۔





















