جواں سال جنازے آخر کب تک؟

ہمارے دشمن نے ہماری باہمی لڑائیوں کا پہلے بھی فائدہ اٹھایا اب اٹھا رہا ہے

جنوبی وزیرستان چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کے حملہ میں ہمارے 16 جوان وطن عزیز کے مزید 16 بیٹے شہید ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون، اللہ رب العزت قوم کے ان بیٹوں کے درجات بلند ان کی شیر جگر ماؤں اور باپوں کو اس قربانی پر صبر جمیل اور اجر عظیم عطا فرمائے، جب بھی ایسی خبر نظر سے گزرتی ہے دل خون کے آنسو روتا ہے کہ آخر پاکستان کے جوان اور عوام کس جنگ میں جان کے نذرانے پیش کرتے چلے جا رہے ہیں اور یہ جنگ ختم ہونے کا نام کیوں نہیں لے رہی، نہ جنگ ختم ہو رہی ہے اور نہ دشمن کا پتہ چل رہا ہے کہ وہ کون ہے اور کیا چاہتا ہے؟

کیا کسی ملک نے کبھی کوئی ایسی جنگ بھی لڑی ہے جو پاکستان لڑ رہا ہے؟ جنوبی وزیرستان چیک پوسٹ پر حملہ پاکستان پر حملہ ہے،پاکستان کے خلاف گوریلا وار مسلط ہے،دشمن اپنی مرضی کا وقت اور جگہ منتخب کرتا ہے اور آگ اور خون کی ہولی کھیل لیتا ہے، ہماری فورسز دنیا کی جدید ترین فورس ہے یقیناً وہ اس کا بدلہ لے لے گی لیکن اس مسلہ کا پائیدار حل کیا ہے؟ قوم کا غالب حصہ سمجھتا ہے کہ یہ وقت داخلی جھگڑے ختم کرکے مشترکہ دشمن کو پہچاننے اور اسے واصل جہنم کرنے کا ہے ، ایک ایک دن میں جتنا جانی نقصان ہو رہا ہے، دو ملکوں کی کھلی جنگوں میں ایک دن میں اتنا نقصان نہیں ہوتا، افواج پاکستان، عوام اور تمام ریاستی اداروں کا ایک پیج پر ہونا وقت کی ناگزیر ضرورت ہے، ناگزیر ہے.

ہمارے دشمن نے ہماری باہمی لڑائیوں کا پہلے بھی فائدہ اٹھایا اب اٹھا رہا ہے، یہ وقت اتحاد و یکجہتی لانے کا ہے مزید تاخیر مزید تباہی لائے گی، دنیا کا منظر نامہ بدل رہا ہے، ماضی کے اتحادی دشمن اور دشمن اتحادی بن رہے ہیں، وطن عزیز کے اندر بھی ان تبدیلیوں کو قبول کیا جائے، دشمن ملک کی افواج بھی بالآخر مذاکرات کی میز پر بیٹھتی ہیں، پاکستان کے بیٹے، پاکستان کی سیاست کے نبض شناس شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے ڈیڑھ سال قبل کہا تھا کہ سب سے غلطیاں ہوئیں، کسی سے زیادہ کسی سے کم لہذا سب ایک دوسرے کو دل سے معاف کرکے آگے بڑھیں اور پاکستان کو بھی معاف کریں،انتقامی رویوں کے ساتھ پاکستان بحرانوں سے نہیں نکل سکتا، اس کےلیے کرہ ارض کے عظیم سپہ سالار، عظیم فاتح حضور نبی اکرم صلی علیہ والہ وسلم کی سیرت پاک سے راہنمائی لی جائے.

جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے تو قطاروں میں گردن جھکائے کھڑے سب دشمنوں کو معاف کرتے چلے گئے ملزمان کی صفوں میں کہیں آپ کے ساتھیوں کے سر قلم کرنے والے کھڑے تھے، کہیں کلیجہ چبانے والی کھڑی تھی، کہیں کردار کشی کرنے اور تہمتیں لگانے والے کھڑے تھے اور کہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کے محبوب گھر مکہ سے بے دخل کرنے والے کھڑے تھے، ملزمان کی صفوں میں ایک سے ایک بڑھ ظالم اور جابر کھڑا تھا مگر عفوودرگزر کے پیکر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معاف کرتے چلے گئے، جن کے پاؤں کے نیچے زمین اور سر پر چھت نہیں رہی تھی انھیں پناہ دیتے چلے گئے،اور یوں کرہ ارض کی عظیم الشان وسیع و عریض اسلامی سلطنت وجود میں آئی، آج اگر ہم انتقام اور دشنام کے ماحول سے باہر نکلنا چاہتے ہیں تو سنت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کرتے ہوئے ایک دوسرے کو معاف کریں، اس معافی کی برکت سے وطن عزیز امن اور خوشحالی کی شاہراہ پر چڑھ جائے گا، 25 کروڑ انسانوں کے محفوظ مستقبل کے لئے ایک دوسرے کو معاف کریں.

بقول شیخ الاسلام غلطیاں سب سے ہوئیں کسی سے کم کسی سے زیادہ حل فقط معافی ہے، ورنہ ہم سے اپنے محافظوں اور معصوم شہریوں کی بغیر جنگ کے شہادتیں نہیں دیکھی جاتیں، ہم مزید اپنے جوانوں کے جواں سال جنازے نہیں پڑھ سکتے،

متعلقہ خبریں

مقبول ترین