کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں جنگلات میں لگنے والی آگ نے دو روز گزرنے کے باوجود قابو نہیں پایا، جس کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، خوفناک آتشزدگی کے پیش نظر نیشنل گارڈ کو بھی طلب کیا گیا۔ پیسیفک پیلیسیڈس میں آگ نے تقریباً 20 ہزار ایکڑ جنگلات کو جلا دیا، جبکہ الٹاڈینا کے قریب ایک اور آگ نے 13 ہزار 700 ایکڑ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

گزشتہ رات کلاباساس اور امیر پوشیدہ ہلز انکلیو کے قریب بھی آگ بھڑک اٹھی، جو دنیا کے مہنگے ترین مقامات میں شمار ہوتے ہیں اور جہاں کم کارڈیشین، پیرس ہلٹن، انتھونی ہاپکنز، اور بلی کرسٹل جیسی مشہور شخصیات کے گھر موجود ہیں، اب ان مقامات پر ویرانی چھائی ہوئی ہے۔

کینتھ فائر چند گھنٹوں میں تقریباً ایک ہزار ایکڑ تک پھیل گئی ہے، جس کے باعث ایک لاکھ 80 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

آگ بجھانے کے لیے درجنوں فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اور عملہ چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں، مگر 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی تیز ہوا کے تھمنے پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے آگ بجھانے کے لیے پانی اور کیمیکل کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے، مگر اب تک یہ کارروائی مؤثر ثابت نہیں ہو سکی۔

آتشزدگی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 10 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد تقریباً 20 ہے۔ کئی افراد کو دھوئیں کے سبب دم گھٹنے کی شکایت کے ساتھ اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔





















