اسلام آباد، استور، گلیات :پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں شدید برف باری اور بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گلیات، وادی نیلم، وادی لیپا اور استور سمیت کئی سیاحتی مقامات پر برف باری کے باعث راستے بند ہو گئے، جس کے نتیجے میں درجنوں سیاح مشکلات کا شکار ہوگئے۔ تاہم ریسکیو ٹیموں کی بروقت کارروائی سے آزاد کشمیر میں پھنسے 200 کے قریب سیاحوں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں، جن میں گجرات، سرگودھا، جھنگ، ڈیرہ غازی خان، کوٹ ادو اور چیچہ وطنی شامل ہیں، میں بارش ہوئی، جبکہ شکر گڑھ، حافظ آباد، کمالیہ اور وہاڑی میں بھی موسلادھار بارش کے بعد سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا۔ پنجاب کے مختلف علاقوں میں رات کے وقت بھی بارش کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ اوباڑو اور گھوٹکی میں بھی بادل خوب برسے۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں، خصوصاً لوئر دیر میں موسلادھار بارش نے جل تھل ایک کردیا۔ گلیات، وادی نیلم اور وادی لیپا میں شدید برف باری کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی، جس کی وجہ سے سیاحوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شدید برف باری کے نتیجے میں مواصلاتی نظام بھی درہم برہم ہوگیا، جبکہ بجلی اور پانی کی سپلائی معطل رہی۔
حکام کے مطابق استور میں مسلسل تیسرے روز بھی برف باری کا سلسلہ جاری رہا، جس کی وجہ سے بالائی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔ رپورٹ کے مطابق استور کے کئی بالائی علاقوں میں 3 سے 4 فٹ تک برف پڑ چکی ہے، جس کے باعث معمولاتِ زندگی مفلوج ہو گئے ہیں۔ خچک کے مقام پر برفانی تودہ گرنے کے باعث استور ویلی روڈ بند ہو گیا، جس سے آمدورفت میں مزید مشکلات پیدا ہو گئیں۔
شدید برف باری کی وجہ سے آزاد کشمیر کی وادی لیپا اور کیل سیری کے مقام پر تقریباً 200 سیاح پھنس گئے تھے، تاہم ریسکیو ٹیموں نے کامیاب آپریشن کرتے ہوئے تمام افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔ دوسری جانب شاردہ سے تاؤبٹ جانے والی مرکزی شاہراہ برفانی تودے گرنے سے متعدد مقامات پر بند ہوگئی، جس کے باعث علاقے میں نقل و حرکت شدید متاثر ہوئی ہے۔
مغربی ہواؤں کا بارش برسانے والا سسٹم بلوچستان میں داخل ہوچکا ہے، جس کے نتیجے میں ضلع قلات میں سب سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی اور بعض مقامات پر ژالہ باری بھی ہوئی۔ کوئٹہ میں گزشتہ شب سے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری رہی، جس کے باعث شہر میں ندی نالے بھر گئے اور ٹریفک کا نظام متاثر ہوا۔ رپورٹ کے مطابق کوئٹہ میں پانچ ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ بارش کے دوران بجلی کا طویل بریک ڈاؤن اور سڑکوں پر پانی کھڑا ہونے کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
قلات میں سب سے زیادہ 56 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ بارکھان، موسیٰ خیل، خضدار، چاغی اور پشین سمیت دیگر علاقوں میں بھی بارش ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند روز تک بارش اور برف باری کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔