سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے غذائی تحفظ کے اجلاس میں انکشاف ہوا کہ ملک کے بعض علاقوں میں کتوں، گدھوں اور مینڈک کا گوشت فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ پلاسٹک کے چاول بھی مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ اجلاس میں غیر معیاری خوراک کی فروخت پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور عوام کو محفوظ غذا کی فراہمی کے لیے سخت فوڈ سیفٹی پالیسی بنانے کی تجویز پیش کی گئی۔ کمیٹی نے فوڈ سیفٹی کے حوالے سے نئی پالیسی کی تشکیل اور برآمدات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ایک ذیلی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے غذائی تحفظ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں رکن کمیٹی ایمل ولی خان نے انکشاف کیا کہ ملک کے کئی علاقوں میں کھانے کے لیے کتوں، گدھوں اور مینڈک کا گوشت فروخت کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، مارکیٹ میں پلاسٹک سے بنے چاول بھی دستیاب ہیں، جو عوام کی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
اجلاس میں ملک میں غیر معیاری خوراک کی فروخت پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس مسئلے کے حل کے لیے فوری اقدامات پر زور دیا گیا۔ ایمل ولی خان نے تجویز دی کہ ملک میں ایک واضح اور سخت فوڈ سیفٹی پالیسی متعارف کروائی جائے تاکہ عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک فراہم کی جا سکے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ فوڈ سیفٹی پالیسی کی تشکیل اور برآمدات کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے ایک ذیلی کمیٹی قائم کی جائے گی، جو اس حوالے سے سفارشات تیار کرے گی۔