پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق سینیٹر فیصل جاوید کو پشاور ایئرپورٹ پر حکام نے پرواز سے آف لوڈ کر دیا اور انہیں عمرے کی ادائیگی کے لیے بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا۔ حالانکہ ایک روز قبل ہی پشاور ہائیکورٹ نے ان کا نام پرووژنل نیشنل آئیڈینٹیفکیشن لسٹ (پی این آئی ایل) سے نکالنے کا حکم دیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق فیصل جاوید عمرے کے لیے پشاور ایئرپورٹ سے سعودی عرب جانے والی پرواز میں سوار ہو چکے تھے، مگر ایئرپورٹ حکام نے انہیں آف لوڈ کر دیا۔ اس اقدام کے بعد فیصل جاوید نے عدالت سے رجوع کیا اور بیرون ملک جانے سے روکے جانے کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی۔
پشاور ہائیکورٹ نے گزشتہ روز ہی اپنے دو صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں حکم دیا تھا کہ فیصل جاوید کا نام پی این آئی ایل سے نکالا جائے تاکہ وہ عمرہ ادا کر سکیں۔ عدالتی حکم کے مطابق درخواست گزار نے عمرہ ادائیگی کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے ہیں، اور ان کے خلاف ایسا کوئی ریکارڈ موجود نہیں جو ان کے بیرون ملک جانے میں رکاوٹ بنے۔
عدالتی حکم میں مزید کہا گیا تھا کہ فیصل جاوید عمرے سے واپسی کے بعد اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو درکار ہوں تو ان کا معاملہ دوبارہ دیکھا جا سکتا ہے، لیکن اس وقت وہ کسی ادارے کو مطلوب نہیں ہیں۔ فیصل جاوید کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے خلاف جو مقدمات تھے، ان میں وہ ضمانت پر ہیں جبکہ کچھ مقدمات میں بری بھی ہو چکے ہیں۔
عدالت نے اس معاملے پر مزید سماعت 15 اپریل تک ملتوی کر دی ہے۔





















