رمضان المبارک کا مہینہ روحانی عبادات اور برکتوں سے بھرا ہوتا ہے، لیکن اس دوران نیند کا شیڈول اکثر متاثر ہو جاتا ہے۔ سحری، افطاری اور عبادات کے مختلف اوقات کی وجہ سے بہت سے لوگ نیند کی کمی کا شکار ہوجاتے ہیں، جس سے جسمانی اور ذہنی تھکن محسوس ہونے لگتی ہے۔ اگر آپ بھی رمضان میں نیند کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں، تو ان 7 آسان عادات کو اپنا کر آپ اپنی نیند کے معیار کو بہتر بنا سکتے ہیں اور خود کو زیادہ توانا اور چاق و چوبند رکھ سکتے ہیں۔
رمضان میں عبادات، سحری اور افطار کے اوقات میں تبدیلی کی وجہ سے نیند کے معمولات بھی متاثر ہوتے ہیں۔ نیند کی کمی نہ صرف تھکاوٹ کا سبب بنتی ہے بلکہ روزمرہ کے کاموں اور عبادات پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نیند کو منظم کیا جائے تو رمضان کے دوران بھی آپ خود کو تازہ دم اور متحرک رکھ سکتے ہیں۔ نیند کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے چند اہم عادات اپنا کر اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
رمضان میں دن کے وقت 20 سے 30 منٹ کی مختصر جھپکی (قیلولہ) لینا توانائی بحال کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ اس سے آپ کو تازگی محسوس ہوگی اور تھکن بھی کم ہوجائے گی۔ لیکن دھیان رہے کہ جھپکی زیادہ طویل نہ ہو، کیونکہ اس سے رات کی نیند متاثر ہو سکتی ہے۔
پانی کی کمی نیند کے معیار کو متاثر کر سکتی ہے، اس لیے رمضان میں افطار اور سحری کے درمیان زیادہ سے زیادہ پانی پینا ضروری ہے۔ ساتھ ہی ساتھ تازہ جوس، سوپ اور ہلکے مشروبات کا استعمال بھی جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد دیتا ہے، جو بہتر نیند کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے
رمضان میں افطار کے بعد چائے، کافی اور میٹھے مشروبات عام طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، لیکن یہ نیند پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ کیفین اور چینی نیند میں خلل ڈال سکتے ہیں اور بے خوابی پیدا کر سکتے ہیں، اس لیے سونے سے 3 سے 4 گھنٹے پہلے ان مشروبات سے پرہیز کریں۔
سورج کی قدرتی روشنی جسم کی اندرونی گھڑی (سرکیڈین رِدھم) کو منظم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ دن کے وقت قدرتی روشنی میں وقت گزارنے سے نیند کا شیڈول بہتر رہتا ہے، اور رات کو سونے میں آسانی ہوتی ہے۔ اسی طرح شام کے وقت روشنی کو مدھم کرنے سے جسم نیند کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔
سحری اور افطار میں ایسی غذا کھائیں جو جسم کو متوازن توانائی فراہم کرے۔ پروٹین (گوشت، انڈے، دالیں)، کاربوہائیڈریٹس (اناج، سبزیاں) اور صحت مند چکنائی (گری دار میوے، زیتون کا تیل) شامل کرنے سے جسم دن بھر مضبوط رہتا ہے اور نیند کا معیار بھی بہتر ہوتا ہے
افطار کے بعد ہلکی ورزش، چہل قدمی یا یوگا کرنے سے نیند بہتر ہوتی ہے۔ اس سے جسم کو سکون ملتا ہے اور رات کو جلد نیند آتی ہے، لیکن سونے سے بالکل پہلے زیادہ سخت ورزش کرنے سے گریز کریں کیونکہ اس سے نیند متاثر ہوسکتی ہے۔
سونے سے پہلے جسم اور دماغ کو آرام دینا ضروری ہے۔ گہری سانس لینے، مراقبہ، یا آرام دہ عبادات جیسے ذکر اور تسبیحات کرنے سے ذہن کو سکون ملتا ہے، اور نیند بہتر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ سونے سے پہلے موبائل فون یا دیگر الیکٹرانک آلات کے استعمال سے بچیں، کیونکہ ان کی روشنی نیند کے ہارمونز پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
رمضان میں نیند کو منظم رکھنا مشکل ضرور ہوتا ہے، لیکن ان 7 آسان عادات کو اپنا کر آپ اپنی نیند کو بہتر بنا سکتے ہیں اور پورے مہینے میں توانا اور متحرک رہ سکتے ہیں۔ اچھی نیند نہ صرف صحت کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ عبادات میں یکسوئی اور روزمرہ کے کاموں کو بھی بہتر بناتی ہے۔





















