بھارتی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر محمد شامی ایک نئے تنازع میں گھر گئے ہیں، جب انہیں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے سیمی فائنل میں انرجی ڈرنک پیتے دیکھا گیا۔ آل انڈیا مسلم جماعت کے صدر مولانا شہاب الدین نے انہیں روزہ چھوڑنے پر تنقید کا نشانہ بنایا اور مجرم قرار دیا۔ تاہم، سابق کرکٹر ہربھجن سنگھ نے شامی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کھیل کے دوران جسم میں پانی کی مقدار برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے، اور مذہب کو کھیل سے نہیں جوڑنا چاہیے۔
تفصیلات کے مطابق آل انڈیا مسلم جماعت کے صدر مولانا شہاب الدین نے بھارتی کرکٹ ٹیم کے مشہور فاسٹ بولر محمد شامی پر سخت تنقید کی ہے اور انہیں رمضان کے دوران روزہ نہ رکھنے پر مجرم قرار دیا ہے۔ یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے سیمی فائنل میں آسٹریلیا کے خلاف میچ کے دوران محمد شامی کو انرجی ڈرنک پیتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس منظر کے بعد کئی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ آیا شامی کو روزہ چھوڑنا چاہیے تھا یا نہیں۔
دوسری جانب، سابق بھارتی اسپنر ہربھجن سنگھ محمد شامی کی حمایت میں سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذہب اور کھیل کو آپس میں نہیں جوڑنا چاہیے اور کھلاڑی کو اپنی صحت کے مطابق فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے۔ ہربھجن کا کہنا تھا کہ لوگ کسی بھی کھلاڑی سے مخصوص وقت میں کچھ خاص کرنے کی توقع رکھتے ہیں، جو کہ درست رویہ نہیں۔
ہربھجن سنگھ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی کھلاڑی شدید گرمی میں کھیل رہا ہو تو جسم میں پانی کی مقدار کو برقرار رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو کھلاڑی کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے اور وہ گر بھی سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عام لوگ گھروں میں بیٹھ کر حالات کا اندازہ لگاتے ہیں، لیکن میدان میں کھیلنے والے کھلاڑیوں کے لیے پانی پینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔





















