گردے انسانی جسم کے اہم اعضا میں شامل ہیں جو خون کو فلٹر کرکے فاضل مادوں کو خارج کرتے ہیں۔ اگر یہ صحیح کام نہ کریں تو صحت پر سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ دنیا بھر میں کروڑوں افراد گردوں کے امراض میں مبتلا ہوتے ہیں لیکن اکثر انہیں اس کا علم ہی نہیں ہوتا کیونکہ اس کی علامات عام طور پر کسی اور بیماری سے مشابہت رکھتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، خاندان میں گردے فیل ہونے کی تاریخ یا 60 سال سے زائد عمر کے افراد میں گردوں کے امراض کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، اس لیے انہیں ان علامات سے ضرور آگاہ ہونا چاہیے۔ ہر سال مارچ میں دوسری جمعرات کو گردوں کی صحت کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو اس اہم عضو کی بیماریوں سے آگاہ کیا جا سکے۔
اگر آپ ان 10 علامات میں سے کسی کو بھی محسوس کریں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
مستقل تھکن اور کمزوری
گردے خون میں موجود زہریلے مواد کو صاف کرتے ہیں۔ جب یہ کام درست طریقے سے نہیں ہوتا تو جسم میں فاضل مواد جمع ہونے لگتا ہے، جس سے ہر وقت تھکن اور نقاہت محسوس ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، گردے خون کے سرخ خلیات بنانے والے ہارمونز بھی تیار کرتے ہیں، اگر یہ متاثر ہوں تو آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کمزوری محسوس ہو سکتی ہے۔
نیند کی خرابی
نیند کے دوران خراٹے لینا یا سلیپ اپنیا جیسی حالت گردوں کے مسائل کی نشاندہی کر سکتی ہے۔ جب نیند کے دوران جسم کو مناسب مقدار میں آکسیجن نہ ملے تو گردوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
جلد کے مسائل
اگر گردے زہریلے مادے خارج نہ کریں تو یہ خون میں جمع ہو کر جلد پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ اس کی وجہ سے جلد خشک ہونے لگتی ہے، خارش ہوتی ہے اور بعض اوقات دانے بھی نکل آتے ہیں۔
جسم خصوصاً چہرہ، ہاتھ اور پیر سوج جانا
گردے اگر سوڈیم اور فاضل مادے خارج نہ کر سکیں تو جسم میں اضافی سیال جمع ہونے لگتا ہے، جس سے چہرہ، ہاتھ، پیر اور ٹانگیں سوج جاتی ہیں۔ زیادہ تر یہ سوجن پیروں اور ٹخنوں میں زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔
پٹھوں کا کھچاؤ
اگر گردوں کے افعال متاثر ہوں تو جسم میں سوڈیم، کیلشیئم اور پوٹاشیم جیسے منرلز کا عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں پٹھے اکڑ سکتے ہیں یا کھچاؤ محسوس ہو سکتا ہے۔
سانس لینے میں دشواری
گردے ایک ہارمون بناتے ہیں جو خون کے سرخ خلیات پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر یہ عمل متاثر ہو تو خون کی کمی اور جسم میں اضافی فلوئیڈ جمع ہونے کے باعث سانس لینے میں دشواری ہو سکتی ہے۔ سنگین صورت میں مریض کو ایسا لگ سکتا ہے جیسے وہ پانی میں ڈوب رہا ہو۔
سر چکرانا یا ذہنی الجھن
گردوں کے خراب ہونے سے خون میں زہریلے مواد کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جس کا اثر دماغ پر پڑ سکتا ہے۔ اس کی وجہ سے سر چکرانے، توجہ مرکوز نہ کر پانے اور یادداشت کمزور ہونے جیسے مسائل ہو سکتے ہیں۔
بھوک کم لگنا اور وزن کا تیزی سے کم ہونا
گردوں کے امراض کی ایک علامت کھانے سے جی متلانا یا بھوک کم لگنا ہے۔ اس کی وجہ سے جسمانی وزن بھی اچانک کم ہو سکتا ہے۔
سانس کی بو آنا
اگر گردے خون سے فاضل مواد کو نکال نہ سکیں تو اس کا اثر منہ میں بھی محسوس ہوتا ہے۔ اس سے سانس کی بو خراب ہونے لگتی ہے اور کھانے کا ذائقہ بھی بدلا ہوا لگتا ہے۔
پیشاب میں جھاگ، خون یا رنگت میں تبدیلی
پیشاب میں جھاگ کا زیادہ آنا پروٹین کے اخراج کی علامت ہوسکتا ہے۔ اسی طرح اگر پیشاب کی رنگت بہت زیادہ زرد یا بھوری ہو تو یہ بھی گردوں کے کسی مسئلے کی نشانی ہو سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں پیشاب میں خون آنا بھی گردے کی پتھری یا انفیکشن کا اشارہ دیتا ہے۔
نوٹ: اگر آپ ان علامات میں سے کسی کو محسوس کریں تو فوراً معالج سے رجوع کریں۔





















