واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یومِ آزادی کی تقریب میں دنیا بھر کے 46 ممالک پر نئے تجارتی محصولات عائد کرنے کا اعلان کر دیا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے امریکا ایک نئے سنہری دور میں داخل ہوگا، کیونکہ وقت آ چکا ہے کہ ملک کو معاشی طور پر مزید مستحکم اور خوشحال بنایا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ نئے ٹیرف غیر منصفانہ تجارتی تعلقات کا خاتمہ کریں گے، خاص طور پر ان ممالک کے ساتھ جنہوں نے امریکی صنعتوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور امریکی کاروباری ادارے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ ٹیرف امریکا کے کسانوں اور کاشتکاروں کے حق میں ہیں، جو عالمی منڈی میں دیگر ممالک کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کیا کہ امریکا اب غیر ملکی گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیکس عائد کرے گا اور ان ممالک کے خلاف کارروائی کرے گا جو امریکی مصنوعات پر ٹیرف لگاتے ہیں۔
یورپی یونین پر 20 فیصد اضافی ٹیکس
چین پر 34 فیصد، جاپان پر 24 فیصد
بھارت پر 26 فیصد، اسرائیل پر 17 فیصد
برطانیہ پر 10 فیصد، پاکستان پر 29 فیصد
سعودی عرب، ترکیہ، قطر اور افغانستان پر 10، 10 فیصد
ویتنام 46 فیصد، تائیوان 32 فیصد، جنوبی کوریا 25 فیصد
تھائی لینڈ 36 فیصد، سوئٹزرلینڈ 31 فیصد، انڈونیشیا 32 فیصد، ملائیشیا 24 فیصد
بنگلہ دیش 37 فیصد، کمبوڈیا 49 فیصد، جنوبی افریقا 30 فیصد
برازیل اور سنگاپور 10، 10 فیصد
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان محصولات سے حاصل ہونے والی رقم امریکا میں ٹیکس کی شرح کم کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔
انہوں نے کینیڈا پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ دودھ اور ڈیری مصنوعات پر 200 سے 250 فیصد تک محصولات عائد کر رہا ہے، جو امریکی برآمدات کے خلاف غیر منصفانہ رویہ ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کو کئی دہائیوں سے سبسڈی فراہم کر رہا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس عدم توازن کو درست کیا جائے۔
یہ فیصلے امریکی صنعتوں کے تحفظ اور عالمی تجارتی تعلقات میں توازن پیدا کرنے کے لیے کیے گئے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے عالمی معیشت پر بڑے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یومِ آزادی پر ٹرمپ کا 46 ملکوں پر حملہ
وقت آ چکا ہے کہ ملک کو معاشی طور پر مزید مستحکم اور خوشحال بنایا جائے،امریکی صدر





















