اسلام آباد :پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما اور رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے موناٹائزڈ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا آج تک کوئی آڈٹ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے مسلسل منظم جھوٹ اور گمراہ کن کہانیاں گڑھنے کا طریقہ اپنایا ہے۔ جب مخالفین کے خلاف خبریں کم پڑ جاتی ہیں تو وہ اپنے ہی لوگوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ مروت کے مطابق پی ٹی آئی کی پالیسیوں میں اداروں سے ٹکراؤ، کردار کشی اور گالی گلوچ کے کلچر کی وجہ سے اس کو شدید رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔
رکن قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کی موجودہ حالت، سوشل میڈیا ٹیموں کے رویوں اور قیادت کی غیر موجودگی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اس وقت شدید انتشار کا شکار ہے اور اس صورتحال میں بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کا خواب دیکھنا محض ایک دھوکہ ہے۔ شیر افضل مروت نے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا اکاؤنٹ بھی موناٹائزڈ ہے اور کبھی اس کا آڈٹ نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی لوگ صرف پیسوں کی لالچ میں آ کر جھوٹ بول رہے ہیں۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اندر گالی گلوچ کا کلچر ہے جس نے اسے بدنام کیا۔ اب پی ٹی آئی کی شناخت ایک بدتمیز اور لڑاکا گروہ کے طور پر بن گئی ہے، جس کی وجہ سے اسے انتشاری جماعت کہا جاتا ہے۔ مروت کے مطابق، پی ٹی آئی کے لوگ قسط وار کہانیاں گھڑ کر عوام کو گمراہ کرتے ہیں، اور جب مخالفین کے خلاف خبریں کم پڑ جاتی ہیں تو وہ اپنے ہی لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ ہر پارٹی نے اپنی سوشل میڈیا ٹیمیں بنائی ہوئی ہیں اور یہ جنگ عثمانی جنگوں کی طرح ہوتی ہیں۔ ان کے درمیان گالی گلوچ کا سلسلہ چل رہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کہاں ہے؟ کیا یہ لوگ بانی چیئرمین عمران خان کو رہا کرانے کے قابل ہیں؟ جو ایک سپاہی کے ڈنڈے سے گھر سے نہیں نکلتے، کیا یہ لوگ انقلاب لا سکتے ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے پاس عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی واضح حکمت عملی نہیں ہے۔





















