بجلی چوری پر 10 سال قید کی سزا دی جائے گی،وزارتِ توانائی

تاجکستان میں پانی کی شدید قلت کی وجہ سے بجلی کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی ہے

تاجکستان میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے حکومت نے سخت قدم اٹھا لیا ہے۔ اب اگر کوئی بجلی چوری کرتا پکڑا گیا، تو اسے 10 سال تک قید ہو سکتی ہے۔ پانی کی شدید کمی کے باعث ملک میں پن بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں لوڈشیڈنگ عام ہو گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق تاجکستان کی حکومت نے ملک میں جاری بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لیے نئے اور سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں بجلی چوری پر سخت سزائیں بھی شامل ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، تاجکستان میں پانی کی شدید قلت کی وجہ سے بجلی کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی ہے اور ملک کو توانائی کے شدید بحران کا سامنا ہے۔

تاجکستان کی وزارتِ توانائی و آبی وسائل کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جو افراد بجلی کے استعمال کے قوانین کی خلاف ورزی کریں گے، ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں گے۔

نئے قانون کے مطابق اگر کوئی بجلی کے میٹر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا ہے یا غیر قانونی طریقے (یعنی کنڈے لگا کر) بجلی استعمال کرتا ہے، تو اسے 10 سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ تاجکستان میں 95 فیصد بجلی پن بجلی سے حاصل کی جاتی ہے، لیکن پانی کی قلت کی وجہ سے اب اتنی مقدار میں بجلی پیدا کرنا ممکن نہیں رہا۔

اس کے علاوہ، ملک کا بجلی کا بنیادی ڈھانچہ بھی خاصا پرانا اور خستہ حال ہو چکا ہے، جس کے باعث لوڈشیڈنگ گزشتہ کئی دہائیوں سے عوام کے لیے ایک معمول بن چکی ہے۔

تازہ اقدامات کے ذریعے حکومت امید کر رہی ہے کہ بجلی کے غیر قانونی استعمال کو روکا جا سکے گا اور موجودہ توانائی بحران میں کچھ بہتری آئے گی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین