نہروں کا تنازع، ن لیگ مشکل صورتحال میں گھر گئی

اتحادی جماعت اور اپوزیشن، دونوں ایک ہی موقف پر حکومت کے خلاف صف آرا ہو رہے ہیں

مسلم لیگ (ن) کو دریائے سندھ پر چھ نئی نہروں کی تعمیر کے معاملے پر سخت سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ حکومت کی اتحادی پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین اور اپوزیشن جماعت تحریک انصاف دونوں نے اس منصوبے کی مخالفت میں قومی اسمبلی میں قراردادیں جمع کرا دی ہیں، جس سے سیاسی ماحول مزید گرم ہوگیا ہے۔

اسلام آباد سے موصول ہونے والی خبروں کے مطابق مسلم لیگ (ن) کو دریائے سندھ پر چھ نئی نہروں کی تعمیر کے معاملے پر اس وقت مشکل صورتحال کا سامنا ہے جب حکومت کی اتحادی جماعت پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین اور اپوزیشن میں شامل تحریک انصاف نے اس منصوبے کی مخالفت میں قومی اسمبلی میں علیحدہ علیحدہ قراردادیں جمع کرا دی ہیں، جس سے سیاسی میدان میں نئی گرما گرمی دیکھنے کو ملی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ان قراردادوں کے ذریعے مختلف جماعتوں کو مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں بننے والی حکومت کے خلاف ایک نقطے پر اکٹھا ہوتے دیکھا جا رہا ہے، جس سے حکمران جماعت کو اندرونی و بیرونی دباؤ کا سامنا ہے۔

ذرائع کے مطابق دریائے سندھ پر مجوزہ چھ نئی نہروں کی تعمیر کے خلاف پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کی طرف سے 7 اپریل کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں باقاعدہ قرارداد جمع کرائی گئی، تاہم حیرت انگیز طور پر ابھی تک وہ قرارداد اسمبلی کے ایجنڈے پر شامل نہیں کی جا سکی۔

ادھر جمعرات کے روز پاکستان تحریک انصاف نے بھی اسی منصوبے کی مخالفت میں ایک علیحدہ قرارداد اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی، اور اس میں اعلان کیا گیا کہ وہ اس قرارداد کو پارلیمنٹ کے ایوان زیریں سے منظور کروانے کے لیے پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کی حمایت حاصل کرے گی تاکہ اس منصوبے کو روکنے میں مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔

تاہم دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کے رہنماؤں نے تحریک انصاف کے اس اقدام کو سرد مہری سے دیکھا اور واضح طور پر کہا کہ اگر پی ٹی آئی واقعی سنجیدہ ہے تو وہ 7 اپریل کو پیش کی گئی قرارداد کی حمایت کرے، جس سے سیاسی جماعتوں کے درمیان مکمل اتفاق رائے کی فضا بنتی نظر نہیں آئی۔

اس ساری صورتحال نے مسلم لیگ (ن) کو ایک تذبذب میں ڈال دیا ہے کیونکہ اتحادی جماعت اور اپوزیشن، دونوں ایک ہی موقف پر حکومت کے خلاف صف آرا ہو رہے ہیں، اور یہ معاملہ آنے والے دنوں میں قومی اسمبلی کے ماحول کو مزید کشیدہ بنا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین