کیا سمندر ہمیشہ نیلے ہی تھے؟ سائنسدانوں کا دلچسپ انکشاف

مزید تجربات سے معلوم ہوا کہ سمندر کی 5 سے 20 میٹر گہرائی تک سبز روشنی پہنچتی تھی

سائنسدانوں نے حیران کن انکشاف کیا ہے کہ زمین کے سمندر ہمیشہ نیلے نہیں تھے بلکہ 2.4 ارب سال پہلے سبز دکھائی دیتے تھے۔ اس کی وجہ آکسیجن کی کمی اور سمندروں میں فیروس آئرن کی موجودگی تھی، جو سائانوبیکٹیریا کی فوٹوسنتھیسس سے بدل گئی۔

مشہور ماہر فلکیات اور ٹی وی شو کوسموس کے میزبان کارل سیگن نے زمین کو خلا سے دیکھ کر اسے ’پیل بلیو ڈاٹ‘ (ہلکا نیلا نقطہ) کہا تھا۔ یہ نام ناسا کے وائجر 1 مشن کی ایک مشہور تصویر سے آیا، جو خلا سے لی گئی تھی۔ لیکن ایک نئی سائنسی تحقیق نے اس خیال کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع دیا ہے۔

سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی تازہ تحقیق کے مطابق، تقریباً 2.4 ارب سال پہلے، آرکین دور میں، زمین نیلی نہیں بلکہ سبز دکھائی دیتی تھی۔ اس وقت زمین کی فضا میں آکسیجن موجود نہیں تھی، اور آتش فشانی سرگرمیوں کی وجہ سے سمندروں میں بڑی مقدار میں فیروس آئرن (لوہے کا ایک مرکب) شامل ہوتا تھا۔ چونکہ آکسیجن نہیں تھی، یہ آئرن پانی میں حل ہوتا رہتا تھا اور سمندر کے رنگ کو سبز بنا دیتا تھا۔

بعد میں، جب چھوٹے جانداروں، خاص طور پر سائانوبیکٹیریا نے فوٹوسنتھیسس کے ذریعے آکسیجن بنانا شروع کی، تو سمندر کا رنگ بدلنے لگا۔ اس آکسیجن نے فیروس آئرن کو فیرک آئرن میں تبدیل کر دیا، جو پانی میں حل نہیں ہوتا اور زنگ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ زنگ روشنی کو مختلف طریقے سے جذب کرتا ہے، جس سے سمندر کا رنگ بدل گیا۔

سائنسدانوں نے جدید سائانوبیکٹیریا پر تجربات کیے اور انہیں جینیاتی طور پر تبدیل کر کے سبز روشنی جذب کرنے والا رنگ (فائکوریتھروبیلن) استعمال کرایا۔ نتائج سے پتہ چلا کہ یہ جاندار سبز روشنی میں بہت اچھے طریقے سے بڑھتے ہیں۔ مزید تجربات سے معلوم ہوا کہ سمندر کی 5 سے 20 میٹر گہرائی تک سبز روشنی پہنچتی تھی، جو زمین کو خلا سے سبز دکھانے کی وجہ بن سکتی تھی۔

یہ تحقیق بتاتی ہے کہ اگر کسی دوسرے سیارے کی سطح یا فضا خلا سے سبز دکھائی دے، تو وہاں فوٹوسنتھیسس کرنے والی ابتدائی زندگی موجود ہو سکتی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق زمین پر ابتدائی زندگی کے رنگ کو ایک نئے انداز سے پیش کرتی ہے اور کائنات میں زندگی تلاش کرنے کے نئے امکانات کھولتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین