علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر گرفتاری سے قبل اعلان کیا کہ وہ اپنے بھائی عمران خان سے ملاقات کے بغیر نہیں جائیں گی، چاہے پولیس انہیں کہیں بھی چھوڑ دے۔ عمر ایوب نے بھی گرفتاری کے دوران مودی سرکار اور پنجاب حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ وہ عمران خان کے لیے جان دینے کو تیار ہیں۔
راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا کہ اگر پولیس انہیں حراست میں لے کر کہیں بھی چھوڑتی ہے تو وہ دوبارہ اڈیالہ جیل کے باہر آئیں گی اور تب تک وہیں رہیں گی جب تک اپنے بھائی سے ملاقات نہ ہو جائے۔
اڈیالہ جیل کے باہر پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونے سے پہلے علیمہ خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ عمران خان کو الگ تھلگ کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے، کیونکہ ان کے بچوں، خاندان، اور ڈاکٹروں سے ملاقات پر پابندی لگائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیل قوانین کے مطابق عمران خان کو اپنے وکلا سے ملنے کا حق ہے، لیکن پچھلی ملاقات میں سلمان صفدر اور بیرسٹر گوہر کو اندر جانے دیا گیا، جبکہ ظہیر عباس چوہدری کو روک دیا گیا۔
علیمہ خان نے مزید کہا کہ عمران خان کے تمام حقوق چھین لیے گئے ہیں، اور جو لوگ ان سے ملنا چاہتے ہیں، انہیں روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کوئی غیر آئینی کام نہیں کر رہی ہیں، بلکہ پرامن طریقے سے اڈیالہ جیل کے باہر بیٹھی ہیں، اور غیر آئینی حرکت پولیس کی طرف سے ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پولیس انہیں جیل میں لے جاتی ہے تو ٹھیک ہے، لیکن اگر کہیں اور چھوڑتی ہے تو وہ واپس آ جائیں گی، کیونکہ جب تک عمران خان سے ملاقات نہیں ہوتی، وہ یا تو اڈیالہ جیل کے اندر ہوں گی یا باہر بیٹھیں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر پولیس انہیں کسی بیابان میں چھوڑتی ہے تو وہ پھر بھی واپس آئیں گی، ورنہ پولیس انہیں جیل لے جائے۔
اس سے قبل، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اپوزیشن لیڈر، پنجاب اسمبلی کے رہنما، حامد رضا، اور دیگر رہنماؤں کو گرفتار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے محسن نقوی کو قومی اسمبلی میں بیٹھنے نہیں دیا، اور وہ دیکھیں گے کہ شہباز شریف کیسے آتا ہے، کیونکہ وہ انہیں اٹھا کر بھگائیں گے۔
عمر ایوب نے کہا کہ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان ایک کرپٹ شخص ہے، اور وہ توہین عدالت کر رہے ہیں، کیونکہ ان کے پاس آئینی پوزیشن ہے اور وہ نہتی خواتین کے ساتھ پرامن احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہارڈ اسٹیٹ میں قانون اور انصاف ہوتا ہے، اور ان کے آباؤ اجداد نے اس قوم کے لیے قربانیاں دی ہیں۔
عمر ایوب نے اعلان کیا کہ گرفتاری اور حراست کوئی بڑی بات نہیں ہے، اور وہ عمران خان کے لیے اپنی جان تک دینے کو تیار ہیں۔ انہوں نے عمران خان کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے قیدی وین میں بیٹھ کر اپنی گرفتاری دی۔





















