کراچی: اگر جذبہ ہو تو کوئی بیماری، کوئی وبا اور نہ ہی بڑھاپا انسان کے علم کے سفر کو روک سکتا ہے۔ 80 سالہ پروفیسر ڈاکٹر سعید عثمانی نے دل کے چار دورے، فالج اور کورونا جیسی خطرناک بیماریوں کے باوجود پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر کے یہ ثابت کر دیا کہ عمر محض ایک عدد ہے، اصل طاقت تو حوصلے، ہمت اور علم سے عشق میں ہے۔ ان کی کہانی نہ صرف نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے بلکہ ہر اس شخص کے لیے اُمید کی کرن ہے جو کسی بھی مجبوری کو اپنی راہ کی دیوار سمجھتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق علم کی روشنی سے منور ہونے کا جذبہ ہو تو تعلیم کے لیے عمر کی کوئی حد نہیں اور اس کو ثابت کیا کراچی کے ایک 80 سالہ پروفیسر نے۔کراچی سے تعلق رکھنے والے 80 سالہ پروفیسر ڈاکٹر سعید عثمانی مثال ہیں عزم وہمت کی۔ اس ضعیف العمری میں انہوں نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔پی ایچ ڈی کرنے کے دوران ان دل کے چار دورے پڑے، فالج کا اٹیک اور کورونا جیسے عالمی وبائی جان لیوا مرض کا بھی سامنا کیا لیکن یہ تمام پریشانیاں ان کا علمی سفر نہ روک سکیں۔
پروفیسر ڈاکٹر سعیدعثمانی نے 80 سال کی عمر میں وفاقی جامعہ اردو سے ابلاغ عامہ میں پی ایچ ڈی کر کے ثابت کر دیا کہ تعلیم سمیت ہر مقصد کے حصول کے لیے عمر رکاوٹ نہیں بلکہ صرف ایک عدد ہے۔انہوں نے "کراچی میں ایف ایم ریڈیو کی مقبولیت اور سامعین کا تجزیاتی مطالعہ پر پی ایچ ڈی مکمل کی۔ مقالہ معروف استاد ڈاکٹر توصیف احمد خان کی زیر نگرانی مکمل ہوا، جس کو ملکی اور غیر ملکی ماہرین کی جانب سے بھرپور سراہا گیا۔وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی گریجوایٹ ریسرچ مینجمنٹ کونسل نے 66 ویں اجلاس میں پروفیسر ڈاکٹر سعید عثمانی کو پی ایچ ڈی کی ڈگری جاری کر دی۔پروفیسر عثمانی علمی، ادبی اور سیاسی حلقوں میں انسائیکلوپیڈیا کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی کہانی ہمت، حوصلے اور علم سے عشق کی روشن مثال ہے۔





















