کراچی میں ہونے والی بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معروف عالم دین مفتی منیب الرحمان نے ایک اہم تجویز پیش کی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے دستور سے "اقلیت” کا لفظ حذف کر دینا چاہیے اور اس کی جگہ ’’مسلم پاکستانی‘‘ اور’’ "غیر مسلم پاکستانی‘‘ کا تصور متعارف کرایا جائے
تفصیلات کے مطابق معروف عالم دین مفتی منیب الرحمان نے کہاہے کہ دستور سے اقلیت کا لفظ حذف کر دیا جائے۔ کراچی میں بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ لفظ اقلیت سے محرومی کا احساس پیدا ہوتا ہے، مسلم پاکستانی اور غیر مسلم پاکستانی ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اس سے ہر ایک کیلئے اونرشپ کا احساس پیدا ہو گا، پاکستان میں غیر مسلموں کو جتنے حقوق حاصل ہیں دنیا میں کہیں نہیں ہیں۔ معروف عالم دین نے کہا کہ بھارت میں 20کروڑ مسلمان ہیں ایک بھی مخصوص نشست نہیں، 40 لاکھ مسلمان امریکا میں ہیں کوئی مخصوص نشست نہیں، برطانیہ اور یورپ میں کہیں مسلمانوں کے لیے مخصوص نشست نہیں۔انہوںنے کہاکہ بغیر کسی ثبوت کے مذہب کی جبری تبدیلی کا الزام لگایا جاتا ہے،مذہب کی جبری تبدیلی کا ثبوت ہو تو متاثرہ فریق کا ساتھ دوں گا۔ مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ کوئی اسلام قبول کرنے آتا ہے تو ہم پہلے مجسٹریٹ کے پاس بھیجتے ہیں۔
دستور سے ’’اقلیت‘‘ کا لفظ حذف کر کے نئے الفاظ شامل کئے جائیں: مفتی منیب
لفظ اقلیت سے محرومی کا احساس پیدا ہوتا ہے، مسلم پاکستانی اور غیر مسلم پاکستانی ہونا چاہیے





















