آنکھیں تو ہیں مگر دکھائی پھر بھی نہیں دیتا

بے وقوفی کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ ہم اپنی آخرت کو آسانی سے خراب کر لیتے ہیں

ہم انسان عقلمند ہونے کے باوجود اپنی آخرت خراب کرنے میں بے وقوفی دکھاتے ہیں۔ اللہ نے نیکی اور بدی کے دو واضح راستے دکھائے، لیکن ہم اکثر بدی کی طرف چل پڑتے ہیں۔ سورۃ البلد کی آیت ’وھدینہ النجدین‘ ہمیں سوچنے کی دعوت دیتی ہے کہ ہم بھیڑ چال کیوں اپناتے ہیں؟ سورۃ الفلق اور الناس ہمیں خارجی اور اندرونی شر سے بچنے کی تلقین کرتی ہیں۔ ہمیں اپنے اعمال پر غور کرنا چاہیے تاکہ شیطان ہمیں گمراہ نہ کرے۔

 آج ہم ایک اہم سوال پر بات کریں گے کہ ہم انسان، جو عقل و شعور رکھتے ہیں، پھر بھی کیوں اتنی بڑی بے وقوفی کرتے ہیں؟

اس بے وقوفی کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ ہم اپنی آخرت کو آسانی سے خراب کر لیتے ہیں۔ ہم وہ حقائق جو ہمارے سامنے ہیں، انہیں سمجھ نہیں پاتے، اور وہ باتیں جو حقیقت میں کوئی وجود نہیں رکھتیں، انہیں اپنے ذہن پر چھا جانے دیتے ہیں۔ ہم غیر ضروری اور بے معنی باتوں کو یاد رکھتے ہیں، جبکہ وہ واقعات جو ہمیں سبق دیتے ہیں، انہیں بھول جاتے ہیں۔ ہم ایسی باتیں سوچتے یا کہتے ہیں جو بے فائدہ اور فضول ہوتی ہیں، اور اگر کوئی خاموش رہے تو اس میں بھی کوئی معنی تلاش کر لیتے ہیں۔ سوچئے، یہ تلخ حقیقت ہے، لیکن اس سے منہ نہیں موڑا جا سکتا۔ ہمیں اس کا سامنا کرنا ہوگا اور اس پر غور کرنا ہوگا، کیونکہ اس سے بھاگنا ممکن نہیں ہے۔

ہمارے خیالات اکثر متضاد اور غیر منطقی ہو جاتے ہیں۔ ہماری سوچ محدود اور دھندلی ہو جاتی ہے، جیسے آنکھوں کی بیماری ’مایوپیا‘ میں دور کی چیزیں دکھائی نہیں دیتیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم آخرت یا اپنی زندگی کے آخری دن کے بارے میں سوچتے ہی نہیں۔ ہم دن رات اس طرح گزارتے ہیں جیسے ہمیشہ اس دنیا میں رہیں گے۔

اکثر ہم تعصب کا شکار ہو جاتے ہیں اور غیر منصفانہ رویہ اپناتے ہیں۔ ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ انسان عقل سے بہترین فیصلے کرتا ہے، لیکن حیرت انگیز طور پر وہی اصول توڑ کر بڑی غلطیاں بھی کرتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہم کہاں غلطیاں کرتے ہیں اور عقلمند ہونے کے باوجود یہ غلطیاں کیوں ہوتی ہیں۔

سورۃ البلد کی آیت نمبر 10 ’وھدینہ النجدین‘ کہتی ہے کہ اللہ نے انسان کو نیکی اور بدی کے دو راستے دکھائے۔ انسان کو اختیار دیا کہ وہ ان میں سے جو چاہے، چنے۔ ایک راستہ نیکی کا ہے اور دوسرا بدی کا۔

ہم نے اکثر دیکھا ہوگا کہ جب ایک بکری یا بھیڑ کسی سمت چلتی ہے تو پورا ریوڑ اس کے پیچھے چل پڑتا ہے۔ اسے ’بھیڑ چال‘ کہتے ہیں۔ افسوس کہ ہماری حالت اس سے بھی بدتر ہے۔ ہم عقل رکھتے ہوئے بھی ہر اس چیز کے پیچھے چل پڑتے ہیں جو ہمیں اچھی لگتی ہے، چاہے وہ کتنی ہی غلط یا ہمارے دینی اصولوں کے خلاف ہو۔ سورۃ البلد کی آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اللہ نے ہمیں نیکی کا راستہ ’صراط مستقیم‘ اور بدی کا راستہ واضح کر دیا، پھر ہم کیوں گناہ اور بربادی کی راہ پر چل پڑتے ہیں؟

اگر ہم خود میں مثبت تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنا محاسبہ ایمانداری سے کرنا ہوگا۔ سورۃ الفلق اور سورۃ الناس ہمیں بتاتی ہیں کہ ہمیں کس شر سے پناہ مانگنی چاہیے۔ سورۃ الفلق میں ہم رات کے اندھیرے، حسد کرنے والوں، اور دیگر خارجی شر سے پناہ مانگتے ہیں جو ہماری دنیاوی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

سورۃ الناس میں ہم وسوسوں سے پناہ مانگتے ہیں، جو ہمارے ایمان اور دین پر حملہ کرتے ہیں۔ یہ وسوسے انسانوں یا جنوں سے آ سکتے ہیں۔ ہمیں بہت احتیاط کرنی چاہیے کہ ہم کیا سنتے ہیں۔ کچھ باتیں گمراہ کن، جھوٹی، یا پروپیگنڈے کی شکل میں ہوتی ہیں جو ہمارے دل و دماغ پر اثر کرتی ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ یہ وسوسے ہمارے سینے تک رہتے ہیں اور دل تک نہیں پہنچتے، جب تک ہم خود انہیں جگہ نہ دیں۔

اگر ہم نے ان وسوسوں کو دل میں جگہ دی تو شیطان انہیں خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے، اور ہمارے برے اعمال بھی ہمیں اچھے لگنے لگتے ہیں۔ سورۃ الانعام کی آیت 43 کہتی ہے کہ شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے خوبصورت بنا دیا۔ جب کوئی شخص یا قوم اخلاقی پستی میں گر جاتی ہے تو ان کے برے اعمال بھی اچھے لگتے ہیں، کیونکہ شیطان انہیں دلفریب بنا دیتا ہے۔

قرآن واضح بتاتا ہے کہ سورۃ الفلق میں ہم خارجی شر سے پناہ مانگتے ہیں، جو ہمارے اختیار میں نہیں۔ سورۃ الناس میں ہم اندرونی وسوسوں سے پناہ مانگتے ہیں۔ اللہ ہمیں بار بار سوچنے، سمجھنے اور غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ کیا ہم عقلمند ہونے کے باوجود اپنے ایمان کے دشمن بن جائیں؟ اللہ نے دو راستے دکھائے، کیا ہم بدی کا راستہ چنیں گے؟

اللہ ہمیں قرآن پر غور کرنے کی توفیق دے، اس کے معانی سمجھنے کا فہم عطا کرے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے فائدہ اٹھانے اور ان کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنے کی سعادت نصیب کرے، تاکہ ہماری دنیا اور آخرت سنور جائے۔ آمین۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین