اگر آپ کو ہر وقت پیاس لگتی ہے اور پانی پینے کے باوجود راحت نہیں ملتی، تو یہ صرف گرمی یا تھکاوٹ نہیں بلکہ کسی سنگین بیماری کی علامت ہو سکتی ہے۔ ڈی ہائیڈریشن، ذیابیطس، خون کی کمی، یا کیلشیئم کی زیادتی سمیت کئی وجوہات اس کی ذمہ دار ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسی علامات پر فوری ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
پیاس لگنا جسم کا وہ طریقہ ہے جس سے وہ ہمیں بتاتا ہے کہ اسے پانی کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنا کام ٹھیک سے کر سکے۔گرم موسم میں یا ورزش کے بعد پیاس لگنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔لیکن اگر آپ کو ہر وقت پیاس کا احساس ہوتا ہے اور پانی پینے کے بعد بھی سکون نہیں ملتا، تو یہ کسی صحت کے مسئلے کی نشانی ہو سکتی ہے۔
آئیے جانتے ہیں کہ وہ کون سی وجوہات ہیں جو ہر وقت پیاس لگنے کا سبب بن سکتی ہیں۔
ڈی ہائیڈریشن
ڈی ہائیڈریشن اس وقت ہوتا ہے جب جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے اور اسے اپنے روزمرہ کے کاموں کے لیے کافی پانی نہیں ملتا۔
پیاس لگنا ڈی ہائیڈریشن کی سب سے بڑی علامت ہے۔ جسم میں پانی کی کمی ورزش، اسہال، الٹی، یا زیادہ پسینہ آنے کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔پیاس کے علاوہ ڈی ہائیڈریشن کی دیگر علامات میں گہرا زرد پیشاب، کم پیشاب آنا، منہ کا خشک ہونا، جلد کی خشکی، تھکاوٹ، چکر آنا، اور سر درد شامل ہیں۔
ذیابیطس
ذیابیطس کے مریضوں کو زیادہ پیشاب کی وجہ سے بار بار پیاس لگتی ہے۔جب بلڈ شوگر کی سطح بڑھ جاتی ہے، تو جسم شکر کو خارج کرنے کے لیے ٹشوز سے پانی کھینچتا ہے۔پانی جسم کو توانائی دیتا ہے اور فضلہ خارج کرنے میں مدد کرتا ہے، لیکن جب ٹشوز سے پانی کھینچا جاتا ہے، تو دماغ ہمیں پیاس کے سگنل مسلسل بھیجتا رہتا ہے۔
ذیابیطس انسپائیڈس
اس بیماری کا نام ذیابیطس جیسا ہے، لیکن اس کا ذیابیطس سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب جسم وہ ہارمون کم بناتا ہے جو گردوں کو پانی کی مقدار کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے۔
اس کی سب سے بڑی علامت شدید پیاس کا احساس ہے۔پیاس کے علاوہ ڈی ہائیڈریشن اور بار بار پیشاب آنا بھی اس کی اہم علامات ہیں۔
منہ کا خشک ہونا
منہ کے خشک ہونے سے بھی ہر وقت پیاس محسوس ہو سکتی ہے، کیونکہ منہ میں لعاب کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔یہ ادویات کے استعمال، سگریٹ پینے، یا اعصاب کے نقصان کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔منہ خشک ہونے کی دیگر علامات میں سانس کی بدبو، ذائقے کی حس میں تبدیلی، مسوڑوں میں خارش، لعاب کا گاڑھا ہونا، اور کھانا چبانے میں دشواری شامل ہیں۔
خون کی کمی
خون کی کمی اس وقت ہوتی ہے جب جسم میں صحت مند سرخ خلیات کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔
اگر خون کی کمی شدید ہو، تو ہر وقت پیاس کا احساس ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ چکر آنا، تھکاوٹ، کمزوری، جلد کا زرد ہونا، تیز نبض، اور زیادہ پسینہ آنا بھی اس کی علامات ہیں۔
جسم میں کیلشیئم کی زیادتی
جب خون میں کیلشیئم کی مقدار ضرورت سے زیادہ ہو جاتی ہے، تو بھی ہر وقت پیاس لگ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ بار بار پیشاب آنا، بدہضمی، متلی، قبض، ہڈیوں میں درد، پٹھوں کی کمزوری، ڈپریشن، اور ذہنی الجھن جیسی علامات بھی ہو سکتی ہیں۔
پیاس کی دیگر وجوہات
زیادہ مرچ مصالحہ یا نمکین کھانوں کا استعمال، شدید خون کا بہنا، ایسی ادویات کا استعمال جو پیاس بڑھاتی ہوں، یا تھائرائڈ کے زیادہ فعال ہونے کی وجہ سے بھی ہر وقت پیاس لگ سکتی ہے۔
نوٹ: یہ معلومات طبی جریدوں سے لی گئی ہیں، لیکن اگر آپ کو ایسی علامات ہیں، تو اپنے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں۔





















