دنیا کا سب سے جان لیوا گانا، جسے سن کر تقریباً 100 اموات رپورٹ ہو چکیں

یہ گانا موسیقار ریزو سریس نے 1933 میں اپنی گرل فرینڈ کی جدائی میں لکھا تھا

ہنگری کا گانا ’گلومی سنڈے‘ دنیا کا خطرناک ترین گانا کہلاتا ہے، جسے سن کر تقریباً 100 افراد نے خودکشی کر لی۔ یہ گانا موسیقار ریزو سریس نے 1933 میں اپنی گرل فرینڈ کی جدائی میں لکھا تھا۔ اس کی غمزدہ شاعری نے لوگوں کو خودکشی پر مجبور کیا، جس کی وجہ سے 1941 میں اس پر پابندی لگائی گئی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سریس نے خود بھی اسی ’سنڈے‘ کو اپنی زندگی ختم کرنے کے لیے چنا۔

ہنگری: گانے فلموں اور زندگی کا ایک اہم حصہ ہیں۔ یہ نہ صرف پیار اور محبت کے جذبات کو بیان کرتے ہیں بلکہ خوشیوں اور یادگار لمحات کو اور بھی خوبصورت بناتے ہیں۔ لیکن تاریخ میں ایک ایسا گانا بھی ہے جسے سن کر تقریباً 100 لوگوں نے اپنی جان گنوا دی، اور حکام کو اس کے خلاف سخت اقدامات کرنے پڑے۔

ایک مشہور بھارتی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، ہنگری کے موسیقار ریزو سریس نے 1933 میں ایک گانا لکھا جس کا نام ’گلومی سنڈے‘ رکھا گیا۔ انہوں نے یہ گانا اپنی گرل فرینڈ کے لیے لکھا تھا، جو انہیں چھوڑ کر چلی گئی تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس گانے کی شاعری اتنی غمگین تھی کہ اسے سننے والا خودکشی کرنے پر مجبور ہو جاتا تھا۔ اسی وجہ سے اس گانے کو ’ہنگرین سوسائیڈ سانگ‘ کا نام دیا گیا۔

شروع میں کئی گلوکاروں نے اس گانے کو گانے سے انکار کر دیا تھا، لیکن 1935 میں یہ گانا ریکارڈ اور ریلیز کر دیا گیا۔ جیسے ہی گانا سامنے آیا، لوگوں کی بڑی تعداد نے خودکشی شروع کر دی۔ ایک رپورٹ کے مطابق، ہنگری میں اس گانے کو سننے کے بعد خودکشیوں کی تعداد میں زبردست اضافہ دیکھا گیا۔ کئی معاملات میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ خودکشی کرنے والوں کی لاش کے قریب یہ گانا چل رہا تھا۔

رپورٹس کے مطابق، شروع میں اس گانے سے منسلک خودکشیوں کی تعداد 17 بتائی گئی، لیکن بعد میں یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 100 تک پہنچ گئی۔ حالات اس قدر خراب ہو گئے کہ 1941 میں ہنگری کی حکومت کو اس گانے پر پابندی لگانا پڑی۔

اس خطرناک گانے پر عائد پابندی 62 سال بعد 2003 میں ختم کی گئی، لیکن اس کے باوجود کئی لوگوں نے اسے سن کر اپنی جان گنوائی۔ حیران کن طور پر گانے کے خالق ریزو سریس نے بھی وہی دن ’سنڈے‘ اپنی زندگی ختم کرنے کے لیے چنا، جو گانے میں ذکر کیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق، اپنی گرل فرینڈ کے لیے یہ گانا لکھنے والے ریزو سریس نے پہلے اپنی عمارت کی کھڑکی سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوشش کی۔ انہیں اسپتال لے جایا گیا، لیکن وہاں انہوں نے تار سے پھندا لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

اتنی ساری جانیں لینے کے باوجود اس گانے کو 28 مختلف زبانوں میں 100 سے زیادہ گلوکاروں نے گایا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین