بازاروں سے خریدے جانے والے فروٹ جام صحت کیلئے کتنا خطرناک ہو سکتا ہے؟

فروٹ جام میں عام طور پر 50 فیصد یا اس سے زیادہ چینی شامل ہوتی ہے

بازاروں میں ملنے والا فروٹ جام بھلے ہی لذیذ ہو، لیکن اس کا زیادہ استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس میں چینی کی زیادہ مقدار، مصنوعی کیمیکلز، اور اصل پھل کی کم مقدار ہوتی ہے، جو ذیابیطس، موٹاپے، اور دیگر مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ روٹی کے ساتھ کھانے سے وزن بھی تیزی سے بڑھتا ہے۔

لاہور: فروٹ جام کا ذائقہ ہر کسی کو پسند ہوتا ہے، لیکن اگر صحت کی بات کی جائے تو اسے زیادہ کھانا نقصان دہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر یہ بازار سے خریدا گیا پراسیسڈ جام ہو۔

آئیے جانتے ہیں کہ بازاروں میں ملنے والے فروٹ جام کے استعمال سے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں:

چینی کی زیادہ مقدار
فروٹ جام میں عام طور پر 50 فیصد یا اس سے زیادہ چینی شامل ہوتی ہے۔ یہ زیادہ چینی ذیابیطس کا خطرہ بڑھاتی ہے، موٹاپے کا سبب بنتی ہے، اور دل کی بیماریوں کا امکان بڑھاتی ہے۔

مصنوعی اجزاء اور کیمیکلز
بازار سے ملنے والے جام میں اکثر مصنوعی رنگ، ذائقے، اور پرزرویٹوز شامل کیے جاتے ہیں۔ یہ چیزیں لمبے عرصے تک استعمال کرنے سے جگر، گردوں، یا ہارمونز پر برا اثر ڈال سکتی ہیں۔

اصل پھل کی کم مقدار
فروٹ جام کے نام کے باوجود اس میں اصل پھل یا اس کا رس بہت کم ہوتا ہے۔ زیادہ تر حصہ چینی، جیلی بنانے والے ایجنٹس، اور کیمیکلز پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس سے صحت کو کوئی خاص فائدہ نہیں ملتا، بلکہ صرف ذائقہ اور کیلوریز بڑھتی ہیں۔

وزن میں اضافہ
لوگ عام طور پر جام کو ڈبل روٹی یا پراٹھے کے ساتھ کھاتے ہیں۔ اس امتزاج میں کاربوہائیڈریٹس اور چینی مل کر وزن تیزی سے بڑھاتے ہیں

متعلقہ خبریں

مقبول ترین