لندن کے ایک باغ میں پڑا ٹوٹا ہوا گملا حیرت انگیز طور پر 19ویں صدی کے مشہور سیرامک فنکار ہینس کوپر کا شاہکار نکلا، جو نیلامی میں ایک کروڑ 85 لاکھ روپے سے زائد میں فروخت ہوا۔ چِس وِک آکشنز نے اسے 6.7 سے 11 لاکھ روپے کا تخمینہ لگایا تھا، لیکن بولی کی جنگ میں ایک امریکی نے یہ گملا حاصل کیا۔ یہ گملا 1964 میں بنایا گیا تھا اور ٹوٹنے کے بعد بھی باغ میں سجاوٹی گلدان کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔
لندن: برطانیہ میں ایک ٹوٹا ہوا گملا، جو 19ویں صدی کے مشہور فنکار ہینس کوپر کا گمشدہ شاہکار ثابت ہوا، نیلامی میں 66 ہزار ڈالرز یعنی ایک کروڑ 85 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد میں فروخت ہو گیا۔
یہ 4 فٹ لمبا گملا لندن کے ایک باغ میں ملا، جسے ہینس کوپر نے بنایا تھا۔ ہینس کوپر 1939 میں جرمنی سے برطانیہ منتقل ہوئے تھے اور 1964 میں وہ جنوبی لندن کے کیمبر ویل اسکول آف آرٹس میں پڑھا رہے تھے۔
چِس وِک آکشنز نامی نیلام گھر نے اس گملے کی قیمت کا ابتدائی تخمینہ 6 لاکھ 70 ہزار سے 11 لاکھ روپے کے درمیان لگایا تھا۔ لیکن نیلامی میں کئی لوگوں نے دلچسپی دکھائی، اور ایک امریکی بولی جیتنے میں کامیاب ہو گیا۔
نیلام گھر کی انتظامیہ نے کہا کہ ہر کوئی اس نتیجے سے بہت پرجوش ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمیں بالکل توقع نہیں تھی کہ یہ گملا اتنی زیادہ قیمت پر فروخت ہوگا۔
انتظامیہ نے مزید کہا کہ نیلامی میں ایک زبردست بولی کی جنگ دیکھنے میں آئی، جس میں امریکا، ڈنمارک سے بولی لگانے والوں کے علاوہ ایک خاتون بھی شامل تھیں۔انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت کہ ایک خراب شدہ سیرامک گملا اتنی بڑی قیمت پر فروخت ہو سکتا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہینس کوپر اپنی زندگی میں کتنے قیمتی فن پارے بناتے تھے۔
انتظامیہ نے یہ بھی بتایا کہ ہینس کوپر ہمارے لیے بہت قابل احترام فنکار ہیں۔اس گملے کو ہینس کوپر نے 1964 میں ایک نامعلوم خاتون کے کہنے پر بنایا تھا۔ اس خاتون نے اس گملے کو کئی سالوں تک اپنے پاس رکھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہ گملا خراب ہو گیا تھا۔ لیکن خاتون نے اسے پھینکنے کے بجائے اسے مرمت کیا۔مرمت کے بعد اسے لندن کے گھر کے پچھلے باغ میں سجاوٹی پھولوں کے گلدان کے طور پر استعمال کیا گیا۔





















