کیا چیٹ جی پی ٹی واقعی صارفین کی نگرانی کر رہا ہے؟

کئی صارفین نے حیرت اور پریشانی کا اظہار کیا کہ چیٹ جی پی ٹی انہیں ان کے نام سے پکار رہا ہے

چیٹ جی پی ٹی ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا، کیونکہ یہ صارفین کو ان کے نام سے پکار رہا ہے اور ایسی معلومات بتا رہا ہے جو اسے بتائی نہیں گئیں۔ اس کی وجہ نیا ’میموری فیچر‘ ہے، جو صارفین کی باتوں کو یاد رکھتا ہے۔ کچھ صارفین اسے پرائیویسی کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں، لیکن اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ اس فیچر کو بند کیا جا سکتا ہے۔

نیویارک: مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی ایک بار پھر سوشل میڈیا پر لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ لیکن اس بار اس کی وجہ اس کے زبردست جوابات یا کارکردگی نہیں، بلکہ صارفین کے لیے ایک غیر متوقع اور کچھ پریشان کن رویہ ہے۔

حال ہی میں کئی صارفین نے حیرت اور پریشانی کا اظہار کیا کہ چیٹ جی پی ٹی انہیں ان کے نام سے پکار رہا ہے، وہ بھی بغیر کسی پیشگی اطلاع یا اجازت کے۔کئی صارفین نے اس تجربے کو خوفناک قرار دیا اور مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

ایک مشہور ڈویلپر نک ڈونبوس نے چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ اپنی گفتگو کا اسکرین شاٹ شیئر کیا اور لکھا کہ یہ بہت پریشان کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ بالکل اچھا نہیں لگا۔

نک ڈونبوس نے مزید بتایا کہ وہ اب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس فیچر کو کیسے بند کیا جا سکتا ہے۔ایک اور صارف نے شکایت کی کہ چیٹ بوٹ ایسی معلومات کا ذکر کر رہا ہے جو انہوں نے اس کے ساتھ کبھی شیئر نہیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ حیران کن ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کہتا ہے ’ڈینیئل XYZ پر کام کر رہا ہے‘۔

صارف نے حیرت سے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ میں نے یہ معلومات اسے کبھی دی ہی نہیں تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رویہ چیٹ جی پی ٹی کے نئے ’میموری فیچر‘ کی وجہ سے ہے۔ یہ فیچر صارفین کی باتوں، ترجیحات، دلچسپیوں، اور گفتگو کے انداز کو یاد رکھتا ہے۔اس فیچر کا مقصد یہ ہے کہ مستقبل میں صارفین کو زیادہ ذاتی اور بہتر مدد فراہم کی جا سکے۔

اوپن اے آئی نے اپنے بیان میں وضاحت کی کہ میموری فیچر چیٹ جی پی ٹی کو صارف کی ضروریات اور طرزِ عمل سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کی بدولت ہر نئی گفتگو میں چیٹ بوٹ بہتر رہنمائی کر سکتا ہے، چاہے وہ مشورہ ہو، تحریری کام ہو، یا سیکھنے کا کوئی عمل ہو۔اگرچہ اس فیچر کا مقصد صارفین کو سہولت دینا ہے، لیکن کئی صارفین نے اسے ذاتی معلومات کی خلاف ورزی سمجھا ہے۔کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ انہیں لگتا ہے جیسے چیٹ بوٹ ان کی ذاتی زندگی میں جھانک رہا ہو۔

ان خدشات کے جواب میں اوپن اے آئی کے سی ای او سام آلٹمین نے واضح کیا کہ یہ فیچر پوری طرح صارف کی مرضی پر منحصر ہے۔انہوں نے بتایا کہ اگر کوئی صارف چاہے تو وہ میموری فیچر کو جزوی طور پر بند کر سکتا ہے۔یا وہ اسے مکمل طور پر بند کر سکتا ہے۔اس کے لیے صارفین سیٹنگز میں جا کر ’میموری‘ آپشن کو آف کر سکتے ہیں۔

چیٹ جی پی ٹی کے اس نئے فیچر نے گفتگو کو زیادہ ذاتی بنانے کی طرف اہم قدم اٹھایا ہے۔لیکن اس نے پرائیویسی اور شفافیت سے متعلق کئی اہم سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ اوپن اے آئی صارفین کے ان تحفظات کا کس طرح مؤثر حل نکالتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین