حکومت نے پاکستان کی قومی ایئرلائن پی آئی اے کو مکمل یا جزوی طور پر فروخت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس مقصد کے لیے 51 سے 100 فیصد شیئرز کی نجکاری کے لیے سرمایہ کاروں سے دلچسپی کی درخواستیں طلب کی گئی ہیں، جن کے لیے کئی مراعات بھی دی جا رہی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد: حکومت نے قومی ایئر لائن پی آئی اے کے 51 سے 100 فیصد شیئرز فروخت کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے اور اس سلسلے میں سرمایہ کاروں سے اظہارِ دلچسپی (EOI) کی درخواستیں طلب کر لی گئی ہیں۔
نجکاری کمیشن کے جاری کردہ بیان کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری کے لیے اظہار دلچسپی کی درخواستیں جمع کروانے کی آخری تاریخ 3 جون 2025 مقرر کی گئی ہے۔ اس عمل کے تحت پی آئی اے کا انتظامی کنٹرول بھی کامیاب سرمایہ کار کے سپرد کیا جائے گا۔
کمیشن نے بتایا ہے کہ اس نجکاری کے عمل کو سرمایہ کاروں کے لیے پُرکشش بنانے کی خاطر کئی مراعات فراہم کی جائیں گی۔ ان میں سب سے اہم سہولت یہ ہے کہ نئے جہاز خریدنے یا لیز پر لینے کی صورت میں سرمایہ کار کو 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) سے چھوٹ دی جائے گی۔
اس کے علاوہ متوقع سرمایہ کاروں کو پی آئی اے کی بیلنس شیٹ میں موجود کچھ واجبات کی منتقلی کی سہولت بھی دی جائے گی، تاکہ مالی دباؤ کم ہو سکے اور ادارے کو نئے انداز میں چلایا جا سکے۔
مزید یہ کہ سرمایہ کاروں کو بعض قانونی مقدمات اور ٹیکس سے متعلق امور میں تحفظ یا کوریج بھی فراہم کی جائے گی تاکہ ان کو قانونی پیچیدگیوں سے بچایا جا سکے اور سرمایہ کاری کو محفوظ بنایا جا سکے۔
اس فیصلے کو قومی ایئر لائن کی بحالی اور مالی خودمختاری کے تناظر میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ماہرین نجکاری کے اس عمل کو ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا موڑ سمجھ رہے ہیں۔





















