بھارتی اولمپیئن نیرج چوپڑا نے پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم کو بنگلورو کے جیولین تھرو ایونٹ میں مدعو کیا تھا، لیکن پہلگام واقعے کے بعد بھارتی میڈیا اور عوام کے تنقیدی رویے سے بچنے کے لیے وہ صفائیاں دینے لگے۔ ارشد ندیم نے مصروف شیڈول کی وجہ سے ایونٹ میں شرکت سے معذرت کر لی تھی۔ نیرج نے وضاحت کی کہ دعوت صرف ایک ایتھلیٹ کی طرف سے دوسرے ایتھلیٹ کے لیے تھی اور اس کا پہلگام واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔
تفصیلات کے مطابق، بھارتی اولمپیئن جیولین تھرور نیرج چوپڑا نے پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم کو بنگلورو میں ہونے والے جیولین تھرو ایونٹ کے لیے خود دعوت دی تھی۔ تاہم، ارشد ندیم نے دو دن قبل اپنے مصروف شیڈول کی وجہ سے اس ایونٹ میں شرکت سے معذرت کر لی تھی۔
اب پہلگام واقعے کے بعد نیرج چوپڑا بھارتی میڈیا اور عوام کے تنقیدی رویے سے بچنے کے لیے اس دعوت کی وضاحت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
نیرج چوپڑا نے ہمدردی حاصل کرنے کے لیے پہلگام واقعے کی مذمت کی اور اسے بہت تکلیف دہ قرار دیا۔
نیرج چوپڑا نے کہا کہ ارشد ندیم کو ایونٹ کی دعوت پہلگام واقعے سے بہت پہلے دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے الفاظ پر قائم رہنے والے شخص ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر کچھ غلط ہو تو وہ خاموش رہیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ارشد ندیم کو دعوت دینے کے فیصلے پر بہت کچھ کہا جا رہا ہے۔ اس بارے میں غلط باتیں کی گئیں اور نفرت کا اظہار کیا گیا۔ لیکن انہوں نے واضح کیا کہ ارشد ندیم کو دی گئی دعوت صرف ایک ایتھلیٹ کی طرف سے دوسرے ایتھلیٹ کے لیے تھی اور اس سے زیادہ اس کا کوئی مطلب نہیں تھا۔
نیرج چوپڑا نے مزید کہا کہ این سی کلاسیک ایونٹ کے لیے بہترین جیولین تھرورز کو مدعو کیا گیا تھا۔ تمام ایتھلیٹس کو دعوت نامے پہلگام حملے سے دو دن پہلے یعنی پیر کو بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے 48 گھنٹوں میں جو کچھ ہوا، اس کے بعد ارشد ندیم کی این سی کلاسیک میں شرکت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک اور اس کے مفادات سب سے پہلے ہیں اور ان کی ہمدردیاں ان تمام لوگوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اس واقعے میں اپنے پیاروں کو کھویا۔
واضح رہے کہ نیرج چوپڑا کلاسیک ایونٹ 22 مئی سے بنگلورو میں ہونا ہے، جبکہ ارشد ندیم نے پہلے ہی ایشین ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ کے لیے اپنا شیڈول طے کر لیا ہے۔
ارشد ندیم نے ایشین ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ کی وجہ سے بھارت جانے سے معذرت کی تھی۔





















