بھارت دہشت گردوں کو کینیڈا، امریکا اور ہمسایہ ممالک میں ایکسپورٹ نہ کرے، اپنی حد میں رہے: خواجہ آصف

بھارتی میڈیا بالی ووڈ سے متاثر ایک پروپیگنڈہ مشین ہے

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت سے باز رہے، ورنہ سخت جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے بھارت پر الزام لگایا کہ وہ دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے اور ہندوتوا کی پالیسی بھارت کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دے گی۔ آصف نے بھارت سے کہا کہ وہ اپنے اندر اور ہمسایوں کے ساتھ امن قائم کرے اور دہشت گردی برآمد نہ کرے۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارت کو سخت تنبیہ کی ہے کہ وہ کوئی بھی جارحانہ قدم اٹھانے سے گریز کرے، ورنہ پاکستان اس کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر حالات تیزی سے خراب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بھارت کو خبردار کیا کہ اگر اس نے کوئی غلط حرکت کی تو اسے سخت اور واضح جواب ملے گا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نہ صرف تیار ہے بلکہ "دو سو فیصد تیار” ہے۔ اگر بھارت نے کوئی غلطی کی تو اسے بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے ماضی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو پہلے بھی فضائی حدود کی خلاف ورزی مہنگی پڑی تھی، جب بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو پکڑا گیا اور چائے پلا کر واپس بھیجا گیا۔

انہوں نے بھارت سے کہا کہ وہ کشیدگی بڑھانے کے بجائے احتیاط سے کام لے۔ پہلگام حملے میں پاکستان پر الزام لگانے کے بھارتی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس حملے میں بہت سے مسلمان بھی مارے گئے۔

خواجہ آصف نے بھارتی میڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ سنجیدہ رپورٹنگ کے بجائے فلموں جیسا پروپیگنڈہ کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا بالی ووڈ سے متاثر ایک پروپیگنڈہ مشین ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ بھارت کالعدم تنظیموں کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کرتا ہے، جو درحقیقت بھارت کی ہی پراکسی ہیں۔

برطانوی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں خواجہ آصف نے کہا کہ اگر بھارت جنگی جنون میں مبتلا ہوا تو دونوں ایٹمی ممالک کے درمیان کھلی جنگ ہو سکتی ہے۔ اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر پڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو اس ممکنہ خطرے پر سنجیدگی سے سوچنا چاہیے، کیونکہ ایک غلط قدم بڑی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔

اپنے "ایکس” (ٹوئٹر) پیغام میں خواجہ آصف نے کہا کہ جب آپ کشمیر میں لاکھوں لوگوں کو برسوں سے محصور رکھتے ہیں، کرفیو لگاتے ہیں، ان کی زندگی مشکل کر دیتے ہیں، 9 سے 10 لاکھ فوج تعینات کر کے ایک پوری نسل کو یرغمال بناتے ہیں اور ظلم کی انتہا کرتے ہیں، تو مودی جی، "پھر اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔”

انہوں نے کہا کہ یا تو یہ حملے آپ کی دہشت گردانہ سوچ کا نتیجہ ہیں، یا پھر ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ خون اگر بہتا ہے تو وہ جم جاتا ہے۔

خواجہ آصف نے بھارت کو نصیحت کی کہ وہ پاکستان پر الزام لگانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی نفرت کی سیاست منی پور، ناگا لینڈ، تری پورہ، چھتیس گڑھ، پنجاب، کشمیر اور دیگر علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے، جو بھارت کو درجنوں ٹکڑوں میں تقسیم کر دے گی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کو محبت اور رواداری پھیلانی چاہیے۔ مودی گجرات کے نہیں، بھارت کے وزیراعظم ہیں، جو مختلف قومیتوں اور مذاہب کا مجموعہ ہے۔ ہندوتوا کی تبلیغ بھارت کو اس قدر تقسیم کر دے گی کہ اس کے ٹکڑوں کی گنتی بھی نہیں ہو سکے گی۔

خواجہ آصف نے بھارت سے کہا کہ وہ اپنے اندر امن قائم کرے، ہمسایوں کے ساتھ بھی امن سے رہے، اور دہشت گردوں کو کینیڈا، امریکا یا ہمسایہ ممالک میں برآمد نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو اپنی اوقات میں رہنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین