آم کی فصل شدید متاثر ہونے کا خدشہ، سائز اور کوالٹی بھی متاثر

عام طور پر آم مئی کے پہلے ہفتے میں تیار ہو کر مارکیٹ میں آ جاتا ہے

موسمیاتی تبدیلی اور گرمی کی شدت نے سندھ میں پانی کی قلت کو تشویشناک بنا دیا، جس سے آم کی فصل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ پانی کی کمی کی وجہ سے آم کا سائز چھوٹا اور معیار خراب ہوا ہے، جبکہ کاشتکاروں کے مطابق اس سال آم کی پیداوار 50 فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اور شدید گرمی کی وجہ سے سندھ میں پانی کی قلت بہت بڑھ گئی ہے، جس نے پھلوں کے بادشاہ آم کی فصل کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سندھ بھر میں پانی کی کمی اور سخت موسم کی وجہ سے آم کی فصل کو بڑے خطرات کا سامنا ہے۔ شدید گرمی کی لہر اور نہروں میں پانی کی قلت نے زراعت کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ اس بحران کی وجہ سے آم سمیت دیگر فصلیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

عام طور پر آم مئی کے پہلے ہفتے میں تیار ہو کر مارکیٹ میں آ جاتا ہے، لیکن گرد آلود طوفانوں، گرمی کی شدت اور نہری پانی کی شدید کمی کی وجہ سے ابھی تک آم مارکیٹ میں نہیں پہنچ سکا۔

سندھ میں آم کی کاشت 13 ہزار ایکڑ رقبے پر ہوتی ہے، جو صوبے کی سب سے بڑی فصل ہے۔ ٹنڈو الہ یار اس میں دوسرے اور حیدرآباد تیسرے نمبر پر ہے۔ سندھ میں ہر سال آم کی پیداوار تقریباً 3 لاکھ 92 ہزار میٹرک ٹن ہوتی ہے۔

کاشتکاروں نے بتایا کہ اس سال آم کے درختوں کو 70 فیصد کم پانی ملا، جس سے باغات خشک ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی کمی کی وجہ سے آم کا سائز چھوٹا ہو گیا اور اس کا معیار بھی خراب ہوا ہے۔

کاشتکاروں نے بتایا کہ پانی کی قلت اور مختلف بیماریوں کی وجہ سے باغات کو بہت نقصان ہوا، جس کے باعث اس سال آم کی فصل 50 فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں عام طور پر فلڈ ایریگیشن کا طریقہ استعمال ہوتا ہے، لیکن اس بار پانی کی کمی کی وجہ سے پورے سیزن میں صرف دو بار پانی مل سکا۔ اس دوران باغات کو پانی دینے کے لیے نالیاں بنائی گئیں اور ہر درخت کے نیچے گڑھا کھودا گیا تاکہ پانی کا کم سے کم ضیاع ہو۔

ایسی صورتحال میں اس سال آم کی پیداوار اور ایکسپورٹ پر بھی برا اثر پڑے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین