پاکستان کے خلاف کارروائی سے انکار پر بھارتی لیفٹیننٹ جنرل عہدے سے ہٹا دیا گیا

لیفٹیننٹ جنرل ایم وی سچندر کمار کو پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کا حکم دیا گیا تھا

مودی حکومت نے پہلگام حملے کے بعد پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی سے انکار کرنے پر لیفٹیننٹ جنرل ایم وی سچندر کمار کو ناردرن کمانڈ کے عہدے سے ہٹا دیا۔ ادھر، مقبوضہ کشمیر کے بارہ مولہ میں بھارتی فوج کی دو یونٹوں کی آپسی جھڑپ میں 5 سکھ فوجی ہلاک ہو گئے، جو فوج کی بوکھلاہٹ کو ظاہر کرتا ہے۔ بھارت نے بغیر تحقیق کے پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر لگا کر سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا۔

بھارت کی مودی حکومت نے پہلگام حملے کے بعد پاکستان کے خلاف فوری فوجی کارروائی سے انکار کرنے والے لیفٹیننٹ جنرل ایم وی سچندر کمار کو ناردرن کمانڈ کے عہدے سے برطرف کر دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ایم وی سچندر کمار کو پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کا حکم دیا گیا تھا۔ لیکن جنرل ایم وی ایس کمار نے جارحانہ پالیسی سے گریز کیا، جس پر مودی حکومت نے انہیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا۔

دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہ مولہ میں بھارتی فوج کی دو یونٹوں کے درمیان جھڑپ ہوئی، جس میں 5 سکھ فوجی مارے گئے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بھارتی فوج میں بڑھتی ہوئی بوکھلاہٹ اور انتشار کی طرف واضح اشارہ ہے۔اس کے علاوہ سکھ فوجیوں کی ہلاکت پر سکھ برادری میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

پہلگام حملے کے حوالے سے یاد رہے کہ 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع پہلگام کے سیاحتی مقام پر فائرنگ کے ایک واقعے میں 26 افراد ہلاک اور ایک درجن زخمی ہو گئے تھے۔

بھارت کی ہندو انتہا پسند حکومت نے اس واقعے کی تحقیقات کیے بغیر اپنی روایتی ہٹ دھرمی دکھاتے ہوئے پاکستان پر الزام لگایا اور 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی سے طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا، جو دریاؤں کے پانی کی تقسیم سے متعلق ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین