"کس سے حساب مانگے یہ عوام؟”
یہ سوال آج ہر پاکستانی کے لبوں پر ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے لے کر آج تک، قدرتی آبی وسائل کی نعمت سے مالا مال اس سرزمین کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، وہ مجرمانہ غفلت اور مجبوری کی داستان ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے پانی کو وہ اہمیت ہی نہیں دی جو ایک زندہ قوم کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
ابتدائی دور میں منگلا، تربیلا جیسے بڑے ڈیم بنے، جنہوں نے پاکستان کی معیشت اور زراعت کو جلا بخشی۔ لیکن پھر ایک طویل خاموشی چھا گئی۔ برسوں گزرتے گئے، حکومتیں بدلتی رہیں، وعدے ہوتے رہے، مگر عملی اقدامات ناپید رہے۔ نیا پاکستان حکومت نے ڈیمز کے لیے چندہ مہم کا آغاز کیا۔ سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لے کر دلچسپی دکھائی، مگر وہ جوش وقت کے ساتھ ٹھنڈا پڑ گیا، اور پاکستان وہیں کھڑا رہا جہاں 75 سال پہلے کھڑا تھا پانی کے لیے ترستا ہوا، بارش کے لیے دعائیں مانگتا ہوا۔
اب بھارت نے سندھ طاس معاہدہ منسوخ کر کے ایک خطرناک کھیل کا آغاز کیا ہے۔ پہلے پانی روکنے کی دھمکی دی، پھر اچانک پانی چھوڑ دیا۔ یہ رویہ کھلی آبی دہشتگردی ہے۔ جب پانی بند ہوتا ہے، تو عوام کی سانسیں رکنے لگتی ہیں۔ جب پانی بے قابو چھوڑا جاتا ہے، تو سیلابی ریلے بستیوں کو بہا لے جاتے ہیں۔ اس کی تباہی کا حساب کون دے گا؟ کیا یہ مظلوم کسان دے گا جس کی فصلیں تباہ ہو گئیں؟ یا وہ ماں جس کا بچہ سیلاب میں بہہ گیا؟ آخر جواب دہ کون ہے؟
ماضی پر نظر دوڑائیں تو جب بھی بارشوں کی شدت بڑھتی، یا پانی کا بہاؤ معمول سے زیادہ ہو جاتا، تو گاؤں، شہر، کھیت کھلیان، اور بستیاں سب کچھ بہہ کر ساگر کی موجوں کے سپرد ہو جاتا تھا۔ انسانی محنت، سرمایہ، خواب اور امیدیں چند لمحوں میں صفحۂ ہستی سے مٹ جاتیں۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ نہ اس وقت کوئی نظام حرکت میں آتا تھا، نہ آج کوئی جامع حکمت عملی موجود ہے جو ایسی قدرتی آفات کے آگے بند باندھ سکے۔
یہ صرف بیرونی دشمنی کا مسئلہ نہیں، یہ اندرونی ناکامی کا نوحہ بھی ہے۔ ہم نے اپنے دریاؤں کو گندا نالہ بنا دیا، زیر زمین پانی تیزی سے نیچے جا رہا ہے، اور آبی پالیسی صرف کاغذی دستاویزات تک محدود ہے۔ پالیسی سازوں کو شاید اندازہ ہی نہیں کہ آنے والی نسلوں کے لیے پانی نہیں بچے گا۔ پانی کا مسئلہ اب جنگ کا پیش خیمہ بن چکا ہے، اور اگر ہم نے ہوش کے ناخن نہ لیے، تو یہ جنگ دروازے پر کھڑی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ آبی وسائل کے تحفظ کو قومی سلامتی کے مساوی اہمیت دی جائے۔ نیا ڈیم بنانا وقت کی ضرورت ہے، مگر اس سے پہلے پرانے منصوبوں کو مکمل کیا جائے۔ پانی کے ضیاع پر قابو پایا جائے، جدید ٹیکنالوجی سے زراعت کو بہتر بنایا جائے، اور سب سے بڑھ کر، عوام کو پانی کی اہمیت کا شعور دیا جائے۔
یاد رکھیے، جنگیں صرف بندوق سے نہیں، پانی سے بھی لڑی جاتی ہیں۔ جو قوم پانی پر غفلت کرے گی، وہ تاریخ کے صفحات میں صرف ایک عبرت کے طور پر زندہ رہے گی۔ سوال پھر وہی ہے
پانی کا حساب کون دے گا؟
کیا کبھی کوئی حکومت، کوئی وزیر، کوئی ادارہ آگے بڑھے گا اور کہے گا:
ہاں، ہم نے کوتاہی کی، اور اب ہم سدھارنے جا رہے ہیں؟
یا پھر یہ سوال یونہی صدیوں تک فضاؤں میں گونجتا رہے گا





















