آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے خبردار کیا کہ بھارت کی کسی بھی عسکری مہم جوئی کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے ٹلہ فیلڈ فائرنگ رینج میں پاک فوج کی جنگی مشق "ہیمر اسٹرائیک” کا معائنہ کیا، جہاں جدید ہتھیاروں اور حکمت عملی کی شاندار نمائش کی گئی۔ جنرل عاصم نے فوج کے جذبے کی تعریف کی اور کہا کہ پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن قومی مفادات کے تحفظ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ اگر بھارت نے کوئی عسکری مہم جوئی کی تو اس کا فوری، دوٹوک اور بلند سطح پر جواب دیا جائے گا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ٹلہ فیلڈ فائرنگ رینج کا دورہ کیا، جہاں "ایکسرسائز ہیمر اسٹرائیک” کے دوران جنگی تیاریوں اور جدید ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کیا گیا۔
جنرل عاصم منیر نے ٹلہ فیلڈ فائرنگ رینجز کا معائنہ کیا، جہاں پاک فوج کی منگلا اسٹرائیک کور نے اعلیٰ سطح کی جنگی مشق "ایکسرسائز ہیمر اسٹرائیک” منعقد کی۔اس مشق کے موقع پر آرمی چیف کی آمد پر کور کمانڈر نے ان کا استقبال کیا۔
بیان کے مطابق اس مشق کا مقصد جنگ کے حقیقی حالات میں پاک فوج کی تیاری، مختلف شعبوں کے درمیان ہم آہنگی اور جدید ہتھیاروں کے نظام کو عملی طور پر استعمال کرنے کی صلاحیت دکھانا تھا۔
مشق کے دوران کثیر الجہتی فضائی طاقت، طویل فاصلے تک مار کرنے والی توپوں، جنگی ہیلی کاپٹروں اور جدید انجینئرنگ تکنیکوں کا کامیابی سے استعمال کیا گیا۔
بیان میں بتایا گیا کہ تمام ہتھیاروں اور شعبوں سے تعلق رکھنے والے جوانوں نے شاندار ہم آہنگی، چستی اور مہارت کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے افسروں اور جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ ورانہ مہارت اور جنگی جذبے کی تعریف کی اور اسے پاک فوج کی آپریشنل برتری کا عملی ثبوت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاک فوج ہر حال میں ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے تیار ہے۔
جنرل عاصم منیر نے واضح کیا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ بھارت کی طرف سے کسی بھی قسم کی مہم جوئی کا فوری، دوٹوک اور بلند سطح کا جواب دیا جائے گا۔
پاک فوج کے جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے، لیکن قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہماری تیاری اور عزم پختہ ہے۔
ایکسرسائز "ہیمر اسٹرائیک” پاک فوج کی مسلسل پیشہ ورانہ ترقی، جنگی حکمت عملی میں جدت اور تکنیکی جدیدیت کی ایک شاندار مثال ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اعلیٰ عسکری قیادت، فارمیشن کمانڈرز اور مختلف سروسز سے تعلق رکھنے والے معززین نے اس مشق کا مشاہدہ کیا۔





















