دریائے چناب میں بھارت سے آنیوالے پانی میں اضافہ

ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ 4 ہزار کیوسک سے بھی نیچے چلا گیا تھا‘بہائو میں اضافے سے اخراج شروع کردیاگیا

لاہور:دریائے چناب میں بھارت کی جانب سے آنے والے پانی میں اضافہ ہونے لگا۔محکمہ آبپاشی کے مطابق ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 27 ہزار 300 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔پانی کے بہاؤ میں اضافے کے بعد ہیڈ مرالہ سے پانی کا اخراج شروع کر دیا گیا۔ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ 4 ہزار کیوسک سے بھی نیچے چلا گیا تھا۔ ہیڈ مرالہ پر پانی کا اخراج صفر ہونے سے دریائے چناب کا بیڈ خالی ہوگیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کا پانی روکنے کی بھارتی کوشش ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ بھارت ایک روز بعد ہی دریائے چناب میں پانی چھوڑنے پر مجبور ہوگیا۔ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، چند گھنٹے قبل خشک نظر آنے والا دریا اب 28 ہزار کیوسک تک بھر چکا ہے۔آبی ماہرین کے مطابق اس طرح کا غیر متوقع اقدام سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے ‘پاکستان کیلئے سیلابی خطرات بھی بڑھا دیتا ہے۔ترجمان واپڈا کے مطابق دریائے چناب میں پانی کی آمد میں 23 ہزار کیوسک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ گزشتہ دن دریائے چناب میں پانی کی آمد 5300 کیوسک تھی۔منگل کو دریائے چناب میں پانی کی آمد 28ہزار300کیوسک دیکھی گئی ۔آبی ذخائر میں قابل استعمال پانی کا مجموعی ذخیرہ 23 لاکھ45 ہزار ایکڑ فٹ ہے، ملک کے قابل استعمال پانی کے ذخیرے میں 1لاکھ 18ہزار ایکڑ فٹ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ترجمان کے مطابق ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 28 ہزار300، اخراج 19 ہزار 100 کیوسک ہے، دریائے سندھ میں پانی کی آمد 95 ہزار 300 کیوسک، اخراج 50 ہزار کیوسک ہے۔ گزشتہ دن دریائے سندھ میں پانی کی آمد 92ہزار 200کیوسک تھی۔ دریائے سندھ میں پانی کی آمد میں 3200کیوسک اضافہ ہوا۔دریائے جہلم میں پانی کی آمد 43ہزار 500 ، اخراج 32 ہزار کیوسک ہے، دریائے جہلم میں پانی کی آمد میں 800کیوسک کمی ریکارڈ کی گئی۔ گزشتہ دن دریائے جہلم میں پانی کی آمد 44ہزار 300کیوسک تھی۔ترجمان واپڈا کے مطابق چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 99 ہزار100،اخراج 85 ہزار کیوسک ہے، دریائے کابل میں پانی کی آمد 37 ہزار، اخراج بھی 37 ہزار کیوسک ہی ہے۔تربیلاڈیم پانی کی سطح 1444.30 فٹ، ذخیرہ 9 لاکھ2 ہزارایکڑ فٹ ہے، منگلا ڈیم پانی کی سطح 1137 فٹ، ذخیرہ 12 لاکھ 35 ہزار ایکڑ فٹ ہے، چشمہ بیراج میں پانی کی سطح 646.90 فٹ، ذخیرہ 2 لاکھ 8 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔آبی ذخائر میں قابل استعمال پانی کا مجموعی ذخیرہ 23 لاکھ45 ہزار ایکڑ فٹ ہے، ملک کے قابل استعمال پانی کے ذخیرے میں 1لاکھ 18ہزار ایکڑ فٹ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ادھرمحکمہ آبپاشی کے مطابق بھارت کی جانب سے پانی کا یہ اچانک اخراج خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے اور آج رات پانی کی سطح مزید بلند ہونے کا خدشہ ہے، مقامی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ماہرین کے مطابق اس طرح کا غیر متوقع اقدام نہ صرف سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے بلکہ پاکستان کیلئے سیلابی خطرات بھی بڑھا دیتا ہے۔دوسری جانب ارسا نے بھی دریائے چناب کی صورت حال پر کڑی نظر رکھنے اور پانی کی آمد و اخراج کے ڈیٹا کو مسلسل مانیٹر کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات سے بروقت نمٹا جا سکے۔علاوہ ازیں بھارت کی جانب سے چناب میں پانی روکنے اور چھوڑنے کا کھیل مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بھی مہنگا پڑ گیا۔بھارت نے الرٹ جاری کیا کہ اکھنور کے عوام دریائے چناب کے قریبی علاقے خالی کر دیں کیونکہ پانی ایک بار پھر تیز ہو سکتا ہے، اس سے پہلے دریائے چناب کا پانی کم ہونے کی وجہ سے اکھنور میں مقامی لوگ پیدل دریا عبور کرتے دکھائی دیئے تھے۔

 

متعلقہ خبریں

مقبول ترین