پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواستیں منظور، دو ججز کا اختلاف

اب عدالتی فیصلے پر عمل نہیں کیا جا رہا تو مستقبل میں اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ عدالت کے احکامات پر عمل ہوگا۔جسٹس ہاشم کاکڑ

سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستوں کو ابتدائی سماعت کے لیے منظور کرلیا، تاہم بینچ کے دو ججوں نے اس فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے درخواستوں کو ناقابلِ سماعت قرار دیا۔ عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کیے ہیں جبکہ کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دینے سے متعلق اپنے سابقہ فیصلے کے خلاف دائر نظرثانی درخواستوں کو ابتدائی سماعت کے لیے منظور کرلیا ہے اور فریقین کو نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔

یہ اہم مقدمہ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 13 رکنی آئینی بینچ نے سنا، جس میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس شاہد بلال، جسٹس صلاح الدین پنہور، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس باقر نجفی شامل تھے۔

سماعت کے دوران ن لیگ کے وکیل حارث عظمت نے مؤقف اختیار کیا کہ مخصوص نشستیں ایک ایسی جماعت کو دی گئیں جو کیس میں فریق نہیں تھی، جس پر جسٹس عائشہ ملک نے نشاندہی کی کہ اس نکتے کا جواب فیصلے میں پہلے ہی دیا جا چکا ہے اور نظرثانی کی بنیاد واضح نہیں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہمارے سامنے الیکشن کمیشن اور آراو کے آرڈرز موجود تھے، اور سوال اٹھایا کہ کیا ایک پارٹی کی غلطی کی سزا پوری قوم کو دی جائے گی؟

جسٹس عقیل عباسی نے مسلم لیگ (ن) کے وکیل سے کہا کہ آپ نظرثانی کی بنیادیں نہیں بتا رہے اور صرف اپنے پرانے دلائل دہرا رہے ہیں، ساتھ ہی سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کی صورتحال پر سوال اٹھایا۔

وکیل سلمان اکرم راجہ نے توہین عدالت کی درخواست کا بھی ذکر کیا جو اسی فیصلے سے متعلق زیرِ سماعت ہے۔

الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے اعتراف کیا کہ صرف ایک پیراگراف کی حد تک فیصلے پر عمل کیا گیا، جس پر ججز نے شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو اپنی مرضی سے نافذ نہیں کیا جا سکتا۔

جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس عائشہ ملک نے نشاندہی کی کہ کیس کو اس انداز میں پیش کرنا سپریم کورٹ کو غلط سمت لے جانے کے مترادف ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے سوال کیا کہ اگر اب عدالتی فیصلے پر عمل نہیں کیا جا رہا تو مستقبل میں اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ عدالت کے احکامات پر عمل ہوگا۔

عدالت نے یہ واضح کیا کہ آئینی اداروں کو آئین کے تحت دیے گئے فیصلے قبول کرنے چاہئیں، اور ان فیصلوں پر مکمل طور پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔

سپریم کورٹ نے نظرثانی کی درخواستوں پر سماعت کل صبح ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی ہے۔

عدالت عظمیٰ کے 11 ججز نے نظرثانی کی درخواستوں کو ابتدائی سماعت کے لیے قابلِ سماعت قرار دیا جبکہ جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی نے اس سے اختلاف کیا۔

جسٹس عائشہ ملک نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا کہ وہ تینوں نظرثانی درخواستوں کو ناقابلِ سماعت سمجھتی ہیں اور تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کریں گی، جس پر جسٹس عقیل عباسی نے بھی اتفاق کیا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین