سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے والے پرانے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ اب فوجی عدالتوں میں سویلینز کے خلاف مقدمات چلانے کی راہ ایک بار پھر ہموار ہو گئی ہے، تاہم عدالت نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ سزاؤں کے خلاف اپیل کا حق یقینی بنانے کے لیے قانون سازی کی جائے۔
سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل سے متعلق انٹرا کورٹ اپیلوں پر محفوظ فیصلہ سنا دیا ہے۔ اس فیصلے میں عدالت عظمیٰ نے اُس سابقہ فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ سویلینز کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں غیر آئینی ہے۔
یہ فیصلہ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم سات رکنی بینچ نے سنایا۔ عدالت نے وزارت دفاع اور دیگر اداروں کی جانب سے دائر کردہ اپیلوں کو منظور کر لیا۔ فیصلے کے حق میں ووٹ دینے والے ججز میں جسٹس امین الدین خان، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس شاہد بلال، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس حسن رضوی شامل تھے، جبکہ جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان نے اس فیصلے سے اختلاف کیا۔
عدالت نے آرمی ایکٹ کی شق 2 (ڈی) (1) اور (2) کو بھی بحال کر دیا ہے، جو سویلینز کے ٹرائل کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ آرمی ایکٹ کی شق 59 (4) اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی سابقہ کالعدم دفعات کو بھی دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حکومت فوجی عدالتوں سے سزا پانے والوں کو اپیل کا حق دینے کے لیے قانون سازی کرے، اور ہائی کورٹ میں اپیل کا حق دینے کے لیے آرمی ایکٹ میں ترامیم کی جائیں۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ 9 مئی کو ملک بھر میں 39 فوجی تنصیبات پر حملے کیے گئے تھے، جن کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کی منظوری دی گئی تھی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ حکومت چاہے تو قانون سازی کے ذریعے یہ اہتمام کر سکتی ہے کہ فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف ہائی کورٹ میں آزادانہ اپیل کا حق دیا جا سکے۔
دوسری جانب، اختلافی نوٹ دیتے ہوئے جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ آرمی ایکٹ دراصل صرف مسلح افواج کے افراد کے لیے بنایا گیا تھا، اور آئین کا آرٹیکل 175 واضح طور پر عدلیہ کے قیام اور اختیارات کو ایگزیکٹو سے الگ قرار دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئین کا آرٹیکل 10 اے شفاف ٹرائل اور آرٹیکل 25 تمام شہریوں کو برابری کا حق دیتا ہے، اس لیے نو مئی کے ملزمان کے خلاف فوجی عدالتوں میں چلنے والے مقدمات کو کالعدم قرار دیا جانا چاہیے۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے تجویز دی کہ نو مئی کے تمام کیسز عام عدالتوں میں چلائے جائیں اور گرفتار افراد کو "انڈر ٹرائل قیدی” کا درجہ دیا جائے۔





















