ڈائنو سارز کا دور کئی رازوں سے بھرا ہوا ہے، جن میں ایک دلچسپ سوال یہ بھی ہے کہ دنیا کا سب سے تیز رفتار ڈائنو سار کون سا تھا؟ مختلف ڈائنو سارز کے فوسلز اور قدموں کے نشانات کی مدد سے ماہرین نے کچھ ایسے ڈائنو سارز کی شناخت کی ہے جو اپنی تیز رفتاری کے لیے مشہور تھے۔
دنیا کا سب سے تیز رفتار ڈائنو سار کون تھا؟ یہ سوال ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے درمیان طویل عرصے سے زیر بحث رہا ہے، کیونکہ مختلف نسلوں کے ڈائنو سارز کی رفتار کا اندازہ ان کے فوسلز اور زمین پر پڑے قدموں کے نشانات سے لگایا جاتا ہے۔ ماہرین نے کچھ ایسے ڈائنو سارز کی فہرست مرتب کی ہے جو اپنی تیز رفتاری کی وجہ سے مشہور تھے۔
1. نانوٹائرینس (Nanotyrannus):
یہ ایک چھوٹے قد کا گوشت خور ڈائنو سار تھا، جو ٹائرینوسار کے خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کی رفتار تقریباً 80 کلومیٹر فی گھنٹہ (50 میل فی گھنٹہ) تھی۔ اس کے لمبے ٹانگیں اور ہلکا پھلکا جسم اسے بہت تیزی سے دوڑنے کے قابل بناتے تھے، جس کی وجہ سے یہ شکاری ہونے کے ساتھ ساتھ خود کو محفوظ رکھنے میں بھی کامیاب ہوتا تھا۔
2. اورنیتھومیمس (Ornithomimus):
یہ ڈائنو سار شترمرغ جیسا دکھائی دیتا تھا۔ اس کی رفتار تقریباً 69 کلومیٹر فی گھنٹہ (43 میل فی گھنٹہ) تھی۔ لمبی ٹانگیں اور ہلکا جسم اس کی خاصیت تھی، جو اسے بڑی تیزی سے دوڑنے میں مدد دیتے تھے، بالکل اسی طرح جیسے آج کے دور میں شترمرغ دوڑتا ہے۔
3. کومپسوگناتھس (Compsognathus):
یہ بھی ایک چھوٹے قد کا ڈائنو سار تھا جس کی رفتار تقریباً 65 کلومیٹر فی گھنٹہ (40 میل فی گھنٹہ) تھی۔ اس کی لمبی پتلی ٹانگیں اور ہلکا جسم اسے شکار کرنے اور دشمنوں سے بچنے کے لیے بہترین رفتار فراہم کرتے تھے۔
4. مائیکرو ریپٹر (Microraptor):
یہ ایک پرندہ نما ڈائنو سار تھا، جس کی رفتار تقریباً 40 کلومیٹر فی گھنٹہ (25 میل فی گھنٹہ) تھی۔ اس کے جسم پر پروں کی موجودگی اسے نہ صرف ہوا میں گلائیڈ کرنے میں مدد دیتی تھی بلکہ زمین پر دوڑنے میں بھی اضافی رفتار فراہم کرتی تھی۔
ماہرین کے مطابق ان ڈائنو سارز کی ساخت، جسمانی وزن اور قدموں کے نشانات کی بنیاد پر ان کی رفتار کا اندازہ لگایا جاتا ہے، تاہم یہ تحقیق وقت کے ساتھ مزید بدل بھی سکتی ہے، کیونکہ جیسے جیسے نئے فوسلز دریافت ہوتے ہیں، ہمیں ان کی رفتار اور عادات کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہوتی ہیں۔





















