بھارتی کرکٹ کے اسٹار بیٹر ویرات کوہلی نے ٹیسٹ کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا ہے۔ 14 سالہ شاندار کیریئر کے بعد انہوں نے اچانک ریٹائرمنٹ کا اعلان کر کے مداحوں کو حیران کر دیا۔ انہوں نے اس اعلان کے لیے انسٹاگرام کا سہارا لیا اور جذباتی انداز میں اپنی ٹیسٹ کرکٹ کی یادوں کا ذکر کیا۔
بھارتی ٹیم کے لیجنڈ بیٹر ویرات کوہلی نے پیر کے روز اچانک ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا، جس کے بعد شائقین کرکٹ اور ماہرین حیران رہ گئے۔ انہوں نے یہ اعلان ایک انسٹاگرام پوسٹ کے ذریعے کیا، جس میں انہوں نے اپنے طویل اور کامیاب ٹیسٹ کیریئر کی جھلکیاں اور جذبات بیان کیے۔
ویرات کوہلی نے اپنی پوسٹ میں لکھا
"آج سے 14 سال پہلے جب میں نے پہلی بار ٹیسٹ کرکٹ میں بھارتی جرسی پہنی، تو کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ سفر مجھے کہاں لے جائے گا۔ یہ فارمیٹ میری آزمائش بھی بنا، میری تربیت بھی، اور میری زندگی کا استاد بھی۔”
انہوں نے مزید کہا سفید لباس پہن کر کھیلنے کا تجربہ بہت ذاتی ہوتا ہے۔ لمبے دن، خاموش محنت، اور وہ چھوٹے لمحات جو شاید کسی کو نظر نہ آئیں لیکن ہمیشہ دل میں رہ جاتے ہیں۔”
کوہلی نے کہا کہ اس فارمیٹ کو چھوڑنا آسان نہیں ہے، لیکن یہ فیصلہ دل سے درست لگ رہا ہے۔ "میں نے اس فارمیٹ کو اپنا سب کچھ دیا اور بدلے میں اس سے بہت کچھ حاصل کیا۔”
انہوں نے جذباتی انداز میں کہا
"میں شکر گزار دل کے ساتھ رخصت ہو رہا ہوں۔ اس کھیل کا، اپنے ساتھیوں کا، اور ان تمام لوگوں کا جنہوں نے اس سفر میں مجھے عزت دی اور سراہا۔ میں ہمیشہ اپنی ٹیسٹ کرکٹ کو مسکراہٹ کے ساتھ یاد کروں گا۔269، سائن آف۔”
ویرات کوہلی نے 2011 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنا ٹیسٹ ڈیبیو کیا تھا اور 123 ٹیسٹ میچوں میں بھارت کی نمائندگی کی۔ ان کے کیریئر کے دوران انہوں نے 9,230 رنز بنائے، جن میں 30 سنچریاں اور 31 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ ان کا بیٹنگ اوسط 46.85 رہا۔
37 سالہ کوہلی نے بھارت کی جانب سے 68 ٹیسٹ میچوں میں کپتانی کی، جن میں سے 40 میں فتح حاصل کی اور صرف 17 میچ ہارے۔ ان کامیابیوں کے ساتھ وہ بھارت کے سب سے کامیاب ٹیسٹ کپتان بن گئے ہیں۔
ویرات کوہلی کے بعد اس فہرست میں دوسرے نمبر پر مہندر سنگھ دھونی آتے ہیں، جنہوں نے 60 میچوں میں سے 27 جیتے، اور تیسرے نمبر پر سوراو گنگولی ہیں، جنہوں نے 49 میں سے 21 میچوں میں کامیابی حاصل کی۔
عالمی سطح پر ویرات کوہلی چوتھے نمبر پر ہیں جنہوں نے بطور کپتان سب سے زیادہ ٹیسٹ میچ جیتے۔ ان سے آگے جنوبی افریقہ کے گریم اسمتھ (109 میچز میں 53 فتوحات)، آسٹریلیا کے رکی پونٹنگ (77 میں سے 48 فتوحات)، اور آسٹریلیا ہی کے اسٹیو واہ (57 میں سے 41 فتوحات) ہیں۔





















