پاکستان کی حکومت نے آئندہ بجٹ کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ مجوزہ ٹیکس اقدامات پیش کیے ہیں، جن میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بوجھ 10 فیصد تک کم کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔ اگر آئی ایم ایف اس پر راضی ہوا تو تنخواہ داروں کو 50 ارب روپے کا ریلیف مل سکتا ہے۔ بجٹ کو حتمی شکل دینے کے لیے 14 سے 22 مئی 2025 تک مذاکرات ہوں گے، اور حکومت نے محصولات کے نقصان کی تلافی کے لیے اضافی ٹیکس اقدامات کی بھی حامی بھری ہے
حکومت نے آئندہ بجٹ کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مجوزہ ٹیکسیشن اقدامات کے اہم نکات شیئر کر دیے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، ان نکات میں تنخواہ دار طبقے کے لیے مختلف انکم سلیب پر ٹیکس کا بوجھ 10 فیصد تک کم کرنا شامل ہے۔ اگر آئی ایم ایف اس مجوزہ کمی پر راضی ہو جاتا ہے تو تنخواہ دار طبقے کو آئندہ بجٹ میں 50 ارب روپے تک کا ریلیف مل سکتا ہے۔
آئندہ بجٹ کو حتمی شکل دینے کے لیے پاکستانی ٹیم اور آئی ایم ایف کے درمیان 14 مئی سے 22 مئی 2025 تک مذاکرات ہوں گے۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے بجٹ میں ریلیف اقدامات سے ہونے والے محصولات کے نقصان کی تلافی کے لیے اضافی ٹیکس اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔





















