سائنس دانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا کہ کائنات اپنے خاتمے کی طرف ہماری سوچ سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اگرچہ اس میں اب بھی 10^78 سال باقی ہیں، جو کہ پہلے تخمینے 10^1100 سال سے کم ہے۔ تحقیق سے پتا چلا کہ سفید ڈوارف ستارے اور دیگر اجسام ہاکنگ ریڈی ایشن جیسے عمل سے بخارات بن جائیں گے، اور بلیک ہولز کے ساتھ کائنات کا خاتمہ تیزی سے ہو سکتا ہے، لیکن یہ ابھی بہت دور کی بات ہے۔
ایک تازہ تحقیق میں سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ ہماری کائنات اپنے خاتمے کی طرف ہماری سوچ سے زیادہ تیزی سے جا رہی ہے۔
سائنس دانوں کے اس حیران کن انکشاف کے باوجود ان کا کہنا ہے کہ کائنات کا خاتمہ ہونے میں ابھی بہت وقت، یعنی 10^78 سال (ایک کے ساتھ 78 صفر) باقی ہیں۔ پہلے سائنس دان سمجھتے تھے کہ کائنات کے پاس 10^1100 سال ہیں۔
یہ وقت سفید ڈوارف ستاروں کے مکمل طور پر ختم ہونے کے لیے کافی ہے۔ یہ ستارے کائنات میں سب سے زیادہ عرصہ تک رہنے والے اجسام ہیں۔
2023 کے ایک مقالے کی بنیاد پر کی گئی اس نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ نہ صرف بلیک ہولز بلکہ دیگر اجسام بھی ہاکنگ ریڈی ایشن جیسے عمل سے بخارات بن کر ختم ہو سکتے ہیں۔
اس نئے مقالے میں محققین نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اس عمل کو مکمل ہونے میں کتنا وقت لگے گا۔
بلیک ہول کے ماہر اور اس تحقیق کے مرکزی مصنف ہینو فیلکے نے کہا کہ کائنات کا آخری خاتمہ ہماری توقع سے جلدی ہوگا، لیکن خوش قسمتی سے اس میں اب بھی بہت زیادہ وقت باقی ہے۔





















