پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ مذاکرات کا پہلا مرحلہ آج شروع ہوگا

حکومت 2 جون کو بجٹ پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے

پاکستان اور آئی ایم ایف آج سے مالی سال 2025-26 کے بجٹ پر ورچوئل مذاکرات شروع کریں گے، جو کہ پاک-بھارت کشیدگی کے باعث تاخیر کا شکار ہوئے۔ آئی ایم ایف کا مشن ہفتے کو اسلام آباد پہنچے گا اور 23 مئی تک بات چیت ہوگی۔ بجٹ میں 400 ارب روپے کے ٹیکس اقدامات، تنخواہ داروں کے لیے ٹیکس ریلیف، اور صنعتوں کے لیے مراعات پر غور ہوگا۔ آئی ایم ایف نے نئی مشن چیف آئیوا پیٹرووا کو تعینات کیا ہے، اور حکومت 2 جون کو بجٹ پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) آج سے مالی سال 2025-26 کے وفاقی بجٹ کے بارے میں ورچوئل مذاکرات شروع کریں گے۔

ان مذاکرات کے دوسرے اور آخری مرحلے کے لیے آئی ایم ایف کا مشن ہفتے کے روز اسلام آباد پہنچے گا اور 23 مئی تک بات چیت جاری رہے گی۔

پاک-بھارت کشیدگی کی وجہ سے آئی ایم ایف ٹیم کی پاکستان آمد میں تاخیر ہوئی۔ خطے کی سیکیورٹی صورتحال کے باعث آئی ایم ایف نے اسلام آباد کا سفر ملتوی کیا اور اب آج سے ورچوئل طور پر نئے بجٹ پر بات چیت شروع کرے گا۔

 سیکیورٹی مسائل کی وجہ سے آئی ایم ایف مشن منگل کے بجائے اب ہفتے کے آخر میں اسلام آباد پہنچے گا۔ وزارت خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ آئندہ بجٹ میں آمدن اور اخراجات پر تفصیلی گفتگو ہوگی۔

ذرائع کے مطابق، آئندہ بجٹ میں 400 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بجٹ میں ٹیکس ریلیف کے اقدامات پر بھی خصوصی سیشنز منعقد ہوں گے۔ تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس میں ریلیف دینے کے لیے آئی ایم ایف کو قائل کرنے کی خاص تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

صنعتوں اور تعمیراتی شعبے کے لیے بھی آئی ایم ایف سے مراعات مانگنے کی کوشش کی جائے گی۔ آئی ایم ایف نے بلغاریہ سے تعلق رکھنے والی مس آئیوا پیٹرووا کو پاکستان کے لیے نیا مشن چیف مقرر کیا ہے۔

حکومت کا منصوبہ ہے کہ وہ عید کی چھٹیوں سے پہلے 2 جون کو نیا بجٹ پیش کرے گی۔ آئندہ مالی سال میں بھی مالیاتی پالیسی کو سخت رکھنے کی توقع ہے۔

آئی ایم ایف نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ بجٹ اس طرح بنائے کہ جی ڈی پی کا پرائمری بجٹ سرپلس 1.6 فیصد ہو۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین