پاکستان کی سمندری معیشت سالانہ 100 ارب ڈالر کما سکتی ہے،وفاقی وزیر بحری امور

عالمی سطح پر بلیو اکانومی سے سالانہ تقریبا 1.5 ٹریلین ڈالر کی آمدن ھوتی ہے جس میں مچھلی، شپنگ، سیاحت، آف شور انرجی، اور میریئن بایو ٹیکنالوجی جیسے شعبے شامل ہیں، جبکہ پاکستان اس میں بہت پیچھے ہے

اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار کی ہدایت پر وزارت نے بلیو اکانومی پالیسی پر کام شروع کر دیا ہے، جس کا مقصد سالانہ 100 ارب ڈالر سے زائد کی آمدن ممکن بنانا ہے۔وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے ایک اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزارت کو ہدایت دی کہ وہ پالیسی کی تیاری کے عمل کو تیز کرے۔ انہوں نے بروقت اور جامع پالیسی سازی کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ بلیو اکانومی پاکستان کے لیے ایک اہم معاشی موقع ہے۔وفاقی وزیر نے کہا تمام متعلقہ وزارتوں، صوبائی حکومتوں، ماہرین صنعت، اور تعلیمی اداروں کو اس عمل میں شامل کیا جائے گا تاکہ ایک موثر اور متفقہ پالیسی فریم ورک تشکیل دیا جا سکے۔

بلیو اکانومی اب مستقبل کا خواب نہیں بلکہ آج کی ترجیح ہے۔بلیو اکانومی سے مراد سمندری وسائل کا پائیدار استعمال ہے جس سے معاشی ترقی، روزگار کے مواقع، اور انسانی زندگی میں بہتری لاتے ہوئے سمندری ماحولیاتی نظام کی حفاظت بھی ممکن بنائی جائے۔وفاقی وزیر جنید انوار چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ سالانہ آمدن اس شعبے سے تقریبا 1 ارب ڈالر ہے، جو کہ قومی جی ڈی پی کا صرف 0.4 فیصد بنتی ہے، جبکہ مکمل صلاحیت کے استعمال سے یہ آمدن 100 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ سکتی ہے۔

نہوں نے پاکستان کے بحری شعبے کو درپیش چیلنجز جیسے کہ منقسم حکومتی ڈھانچے، پرانی ٹیکنالوجی، سمندری آلودگی، تحقیق و اختراع کی کمی، اور ناکافی بنیادی ڈھانچے کی فوری اصلاح کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا ہمارے سمندر ایک قومی اثاثہ ہیں، اور اگر ان کا دانشمندی سے انتظام کیا جائے تو یہ معیشت، روزگار اور ماحولیاتی پائیداری کے لیے کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہم پرعزم ہیں کہ بلیو اکانومی پالیسی پاکستان کے وژن 2035 اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ ہو گی۔وزارت نے ماہرینِ بحریات سے مشاورت کا آغاز کر دیا ہے اور ابتدائی پالیسی مسودہ جلد متوقع ہے۔ حتمی دستاویز میں عملی اقدامات، سرمایہ کاری کی حکمت عملی، اور ادارہ جاتی اصلاحات شامل ہوں گی۔وزارت بحری امور تمام متعلقہ فریقین سے کہا ہے کہ وہ اس اہم پالیسی کی تشکیل میں فعال کردار ادا کریں، جو پاکستان کے سمندری شعبے کو ترقی دے کر پائیدار اقتصادی مستقبل کی بنیاد بنے گی۔

 

متعلقہ خبریں

مقبول ترین