ریاست نکاح سے قبل لڑکے کا تھیلیسیمیا ٹیسٹ لازمی قرار دینے کے قانون پر عمل کروائے:مولانا بشیر فاروق

تھیلیسمیا کو ہرانا ہے تو سب مل کر کام کرنا ہوگا،طب یونانی میں علاج پر تحقیق ہونی چاہیے،ڈاکٹر درناز جمال

کراچی:سیلانی کے بانی اور چیئرمین مولانا محمد بشیر فاروق قادری نے کہا ہے کہ سیلانی بلڈ بینک اینڈ تھیلیسمیا سینٹرمیں زیر علاج 92 بچوں کو نئی زندگی مل گئی ہے،انہیں اب انتقال خون کی ضرورت نہیں۔اب وہ عام بچوں کی طرح معمول کے مطابق زندگی گزارنے کے قابل ہوگئے ہیں،یہ مستقبل کے خواب بھی دیکھ سکتے ہیں اور بڑے ہوکر شادی بھی کرسکتے ہیں۔سینٹر میں مزید 300 بچوں کا علاج جاری ہے۔

سیکریٹری سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی ڈاکٹر در ناز جمال نے کہا ہے کہ تھیلیسمیا کو ہرانا ہے تو سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیلانی بلڈ بینک اینڈ تھیلیسمیا سینٹرکے زیر اہتمام ورلڈ تھیلیسمیا ڈے کے حوالے سے منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سیمینار سے ہمدرد یونی ورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شبیب الحسن،ڈائریکٹر کلینیکل سائنس ڈویژن ہمدرد لیبارٹریزپروفیسر ڈاکٹر حکیم عبدالحنان،پروفیسر ڈاکٹر فیصل حیدر،ڈاکٹر طبیبہ صائمہ غیاث ، ڈاکٹر عذرا رفیق،ڈاکٹر زنیر،ڈاکٹر عبدالقدیر، سیلانی بلڈ بینک سینٹر کے ڈائریکٹر اقبال قاسمانی ،ڈاکٹر سرور ،ڈاکٹر یونس جمال اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

تفصیلات کے مطابق مولانا محمد بشیر فاروق قادری نے مزید کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ تھیلیسیمیا مائنر بلڈ ٹیسٹ کے سلسلے میں نکاح سے پہلے لڑکے کا بلڈ ٹیسٹ لازمی قرار دینے کے قانون پر عمل درآمد کرائے۔ ایران،سعودی عرب اور برطانیہ نے اس قانون پر عمل کرکے اپنے ممالک کو تھیلیسمیا فری کرلیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے پاک فوج نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے کر پوری قوم کو سرخرو کردیا ہے۔انہوں نے بھارت کی جانب سے بلاشتعال کارروائیوں کا بھرپور جواب دینے پر پاکستان کی مسلح افواج کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔سیکریٹری سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی ڈاکٹر در ناز جمال نے تھیلیسمیا کے خلاف سیلانی کی کوششوں کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ تھیلیسمیا کو ہرانا ہے تو سب کو مل کر کام کرنا ہوگا،طب یونانی میں اگر اس کا علاج ممکن ہے تو ضرور تحقیق ہونی چاہیے۔ اگر نکاح رجسٹرار لڑکے کی تھیلیسیما مائنرفری بلڈ ٹیسٹ رپورٹ دیکھے بغیر نکاح کی حامی نہ بھرے ، شادی ہال اور کیٹرنگ والے بلڈ رپورٹ دیکھے بغیر لڑکے والوں کی بکنگ نہ کریں تو اس مرض پر قابو پانا آسان ہوجائے گاکیونکہ اگر لڑکے اور لڑکی میں تھیلسیمیا مائینرہو تو بچے تھیلسیمیا میجر پیدا ہوتے ہیں،عوامی شعور کا یہ عالم ہے کہ ایک ایک گھر میں تین تین بچے اس مرض میں مبتلا ہیں۔

انہوں نے اس امر پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ بیشتر نکاح خواں رجسٹر ہی نہیں ہیں ۔انہوںنے کہا کہ ہمارا مقصد شادیوں پر کوئی کرفیو نافذ کرنا نہیں ہے بلکہ ہم ہر سال اضافہ ہونے والے دس ہزار بچوں کو تھیلیسیمیا میں مبتلا ہونے سے بچانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا وہ جلد ہی سیلانی ویلفیئر کے ساتھ مل کر ضلعی سطح پر رجسٹرڈ نکاح خوانوں کے ساتھ لائحہ عمل بنائیں گی اور کسی ایک ضلعیکو ماڈل بناکر کامیابی حاصل کرکے اس طریقہ کارکو ملک بھر میں نافذ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ تھیلیسیمیا کے خلاف جنگ جیت جائیں گے۔

 

متعلقہ خبریں

مقبول ترین