: پاک-بھارت تنازع کے دوران گوگل ٹرینڈز نے بتایا کہ بھارت میں 7 سے 12 مئی 2025 تک ایک کروڑ سے زائد لوگوں نے ’سیز فائر‘ کا مطلب گوگل پر تلاش کیا، جو عوام کی فوجی اصطلاحات سے ناواقفیت ظاہر کرتا ہے۔ بھارتیوں نے ’آپریشن سندور‘ جیسی فرضی اصطلاحات بھی سرچ کیں، جبکہ پاکستان میں سرچز زیادہ منظم تھیں، جو دفاعی امور اور قومی شخصیات پر مرکوز رہیں۔ یہ فرق دونوں ممالک کے عوامی شعور میں واضح فرق کو دکھاتا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے حالیہ تنازع کے دوران گوگل ٹرینڈز کے اعداد و شمار نے ایک حیران کن رجحان سامنے لایا ہے۔رپورٹ کے مطابق، 7 سے 12 مئی 2025 کے دوران بھارت میں ’جنگ بندی‘ یعنی ’سیز فائر‘ کا مطلب جاننے کے لیے لوگوں نے اسے ایک کروڑ سے زیادہ بار گوگل پر سرچ کیا۔
یہ اعداد و شمار نہ صرف بھارتی عوام کی فوجی اور سفارتی اصطلاحات سے ناواقفیت کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ یہ بھی دکھاتے ہیں کہ میڈیا میں بار بار استعمال ہونے والے سادہ الفاظ بھی بہت سے لوگوں کے لیے سمجھ سے باہر ہیں۔
بھارت میں سب سے زیادہ سرچ کی گئی اصطلاحات میں ’سیز فائر میننگ‘ دس ملین بار، ’آپریشن سندور‘ پانچ ملین بار، اور ’ماک ڈرل‘ ایک ملین بار شامل ہیں۔
ان نتائج سے پتا چلتا ہے کہ بھارتی عوام فوجی اور دفاعی اصطلاحات سے کافی حد تک نابلد ہیں۔ حتیٰ کہ ’آپریشن سندور‘ جیسی اصطلاحات، جو افواہوں یا غلط معلومات کا نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، کو بھی بڑے پیمانے پر سرچ کیا گیا۔
دوسری طرف، پاکستان میں گوگل سرچز کی تعداد بھارت کے مقابلے میں کم تھی، لیکن یہ زیادہ منظم اور موضوع سے متعلق تھیں۔ پاکستانیوں کی سرچز زیادہ تر ملکی دفاع اور قومی شخصیات پر مرکوز رہیں۔
پاکستان میں ’رافیل جیٹ‘ اور ’اورنگزیب احمد پی اے ایف‘ کو 0.2 ملین بار، ’اسلام آباد ایئرپورٹ‘ کو 0.1 ملین بار، اور ’جے ایف-17 تھنڈر‘ اور ’ڈی جی آئی ایس پی آر‘ کو 0.05 ملین بار سرچ کیا گیا۔ اس کے علاوہ ’ڈاسالٹ ایوی ایشن شیئر پرائس‘ اور ’شوانگی سنگھ‘ کو 0.02 ملین بار تلاش کیا گیا۔
یہ رجحانات ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستانی عوام میں دفاعی اداروں، فوجی ٹیکنالوجی، اور قومی اہمیت کے موضوعات سے متعلق آگاہی زیادہ واضح اور مربوط ہے۔
گوگل کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی عوام نے جنگی حالات کے دوران اپنی توجہ دفاعی معاملات اور قومی اہمیت کے موضوعات پر رکھی، جبکہ بھارتی صارفین نے بنیادی اصطلاحات کے معنی جاننے میں وقت صرف کیا۔ یہ فرق دونوں ممالک کے عوام کے شعور کی سطح کو عیاں کرتا ہے اور یہ سوال اٹھاتا ہے کہ اگر بھارت کو کسی بڑے بحران کا سامنا ہوا تو کیا اس کی عوام اس کی نوعیت اور اہمیت کو صحیح طرح سمجھ پائے گی؟





















