پاکستان میں 2024 کے دوران خواتین کے انٹرنیٹ استعمال کی شرح میں 12 فیصد اضافہ ہوا، اور اب 45 فیصد خواتین موبائل انٹرنیٹ استعمال کرتی ہیں، جو بھارت (39 فیصد) اور بنگلادیش (26 فیصد) سے زیادہ ہے۔ مردوں کی انٹرنیٹ استعمال کی شرح میں 7 فیصد اضافہ ہوا، اور 93 فیصد مرد موبائل فون رکھتے ہیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی 2020 کی جینڈر انکلوژن حکمت عملی اور ٹیلی کام کمپنیوں (جیز، ٹیلی نار، یوفون) کی کوششوں سے خواتین میں انٹرنیٹ کا رجحان بڑھا ہے۔
پاکستان میں خواتین کے موبائل انٹرنیٹ استعمال کرنے کی شرح میں گزشتہ سال 2024 کے دوران 12 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔جی ایس ایم اے کی موبائل جینڈر گیپ رپورٹ 2025 کے مطابق، پاکستان میں 45 فیصد خواتین موبائل انٹرنیٹ استعمال کرتی ہیں، جبکہ بھارت میں یہ شرح 39 فیصد اور بنگلادیش میں 26 فیصد ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پچھلے سال کے دوران پاکستان میں مردوں کے انٹرنیٹ استعمال کی شرح میں بھی 7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
واضح رہے کہ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں 93 فیصد مرد موبائل فون رکھتے ہیں، جبکہ بھارت میں یہ شرح 71 فیصد اور بنگلادیش میں 68 فیصد ہے۔
جی ایس ایم اے نے پاکستان کے ٹیلی کام سیکٹر اور ریگولیٹرز کی کوششوں کی تعریف کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے 2020 میں ڈیجیٹل جینڈر انکلوژن حکمت عملی بنائی تھی، جس کے بعد خواتین کے انٹرنیٹ استعمال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
واضح رہے کہ 2024 میں پاکستان میں موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں مجموعی طور پر اضافہ ہوا، اور خواتین میں بھی انٹرنیٹ استعمال کرنے کا رجحان بڑھا ہے۔
2023 میں مردوں کے مقابلے میں 38 فیصد کم خواتین موبائل انٹرنیٹ استعمال کرتی تھیں، لیکن گزشتہ سال یہ فرق کم ہو کر 25 فیصد رہ گیا۔
جی ایس ایم اے کی رپورٹ کے مطابق، خواتین میں موبائل انٹرنیٹ کے بڑھتے رجحان میں جیز، ٹیلی نار، اور یوفون جیسی ٹیلی کام کمپنیوں کی کوششوں کا بڑا ہاتھ ہے۔





















