مسک کی کمپنی نے اپنے چیٹ بوٹ گروک کی متنازع پوسٹس کا الزام ایک نافرمان ملازم پر ڈال دیا

xAI نے وضاحت میں کہا کہ چیٹ بوٹ کی سیاسی طور پر حساس پوسٹ غیر مجاز ترمیم کا نتیجہ تھی

ایلون مسک کی کمپنی xAI کے چیٹ بوٹ "گروک” نے حال ہی میں نسل کشی سے متعلق ایک حساس سیاسی موضوع پر گمراہ کن پوسٹس کیں، جس پر کمپنی نے فوری ردعمل دیتے ہوئے الزام ایک باغی ملازم پر ڈال دیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کی مکمل تحقیقات کی گئی ہیں اور شفافیت کے لیے سسٹم اپڈیٹس کو عوام کے سامنے لایا جائے گا۔

نیویارک سے موصولہ میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایلون مسک کی مصنوعی ذہانت کی کمپنی xAI نے جمعے کے روز اپنے مشہور چیٹ بوٹ "گروک” کی متنازع پوسٹس پر وضاحت جاری کی ہے۔ گروک کی جانب سے جنوبی افریقہ میں سفید فام نسل کشی سے متعلق ایک گمراہ کن اور غیر متعلقہ جواب سامنے آیا تھا، جس پر کمپنی نے ردعمل دیتے ہوئے اس کا ذمہ دار ایک باغی ملازم کو ٹھہرایا ہے۔

xAI کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مسئلہ ایک غیر مجاز ترمیم کی وجہ سے پیدا ہوا، جس نے گروک کو ایک مخصوص سیاسی معاملے پر ایسا جواب دینے پر مجبور کر دیا جو کمپنی کی پالیسیز کے خلاف تھا۔

کمپنی نے مزید بتایا کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا چکی ہیں اور اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ ایسا کیوں اور کیسے ہوا۔ xAI کا کہنا ہے کہ اب وہ گروک کی شفافیت اور اعتماد کو بہتر بنانے کے لیے نئے اقدامات کر رہی ہے۔

اس سلسلے میں ایک بڑا قدم یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ گروک کے سسٹم پرامپٹس کو GitHub جیسے عوامی پلیٹ فارم پر شائع کیا جائے گا تاکہ صارفین کو یہ پتہ چل سکے کہ چیٹ بوٹ کو کس طرح ہدایات دی گئی ہیں اور وہ کیسے جواب دیتا ہے۔

کمپنی کے مطابق ان اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ آئندہ کسی بھی قسم کی گمراہ کن یا غیر ذمہ دارانہ معلومات سے بچا جا سکے، اور صارفین کا گروک پر اعتماد بحال رکھا جائے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین